ریاستی محکمہ پولیس کااقدام خواتین پولیس اہلکاروں کو پینٹ شرٹ پہنانے کافیصلہ

03:55PM Mon 15 Oct, 2018

بنگلورو۔15؍اکتوبر( سالار نیوز) ریاستی محکمہ پولیس نے خواتین اہلکاروں کی وردی میں واضح تبدیلی کا اشارہ دے دیا ہے ۔ خاتون پولیس اہلکاروں کیلئے آئندہ شلوار قمیص اور ساڑی کی بجائے پینٹ شرٹ یونیفارم بنانا تقریباً طے ہوگیاہے ۔ چوروں کے تعاقب کے وقت خواتین اہلکاروں کو آسانی فراہم کرنے ، خود اعتمادی میں اضافہ اور نظم و ضبط پر پابندی ، یکساں پوشاک اور یونیفارم میں یکسانیت لانے کے مقصد سے محکمہ پولیس خواتین اہلکاروں کے لئے پینٹ شرٹ کو بطور وردی بنانے آمادہ دکھائی دے رہی ہے ۔ اب آئندہ خواتین پولیس افسر خاکی پینٹ ، شرٹ براؤن آکسفوڈ شو، براؤن کسٹرڈ لیدر بیلٹ ، پنک یا بلو کیپ اور بیڈ ج میں نظر آئیں گی ۔ دیگر خواتین اہلکار بلیک آکسفرڈ شو ، بلیک کسٹرڈ لیدر بیلٹ ، کیپ مع بیاڈج بطور یونیفارم پہنا کریں گی ۔ خواتین افسر اور اہلکاروں کے لئے ایام حمل کے دوران ڈاکٹری سرٹی فکیٹ کی بنیاد پر رعایت دی جائے گی ۔ پھر زچگی اور ماں بننے پر دی جانے والی چھٹی مکمل کرنے کے بعد دوبارہ جب ڈیوٹی پر لوٹیں گی تو اس وقت پینٹ شرٹ والا یونیفارم ہی پہننا ہوگا ،خواتین اہلکاروں کی وردی کی تبدیلی سے متعلق کئے گئے اقدامات کے سلسلہ میں اکتوبر کے اختتام تک ڈی جی پی دفتر میں حتمی رپورٹ پیش کرنے تمام ڈیویزنس کے افسروں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ بہبودی پولیس مراکز کو ہدایت بھی دی گئی ہے کہ ایسا یونیفارم سلیکٹ کیاجائے کہ جس سے تمام کو آسانی ہو ۔ 3ستمبر کو خواتین اہلکاروں کی وردی کی تبدیلی کے سلسلہ میں بحث کرنے اجلاس طلب کیا گیا تھا ۔ اس اجلاس میں پینٹ شرٹ یونیفارم بنانے پر فیصلہ کیا گیا ۔ مختلف رینک کی خواتین پولیس افسروں نے سفارش کی تھی کہ فرض منصبی کی ادائیگی کے دوران ساڑیوں سے پریشانی لاحق ہوتی ہے ، اپنے آپ کو چست رکھنا مشکل ہوتا ہے ، علاوہ ازیں فعال کردارادا کرنے میں ہچکچاہٹ اور تذبذب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اس لئے انہوں نے پینٹ شرٹ یونیفارم لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ چند پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ خواتین سینئر پولیس افسر اوراہلکاروں کے لئے اب تک ساڑی ، چپل پہن کر ڈیوٹی انجام دینا تھا ۔ یونیفارم کی تبدیلی کے بعد شہر کی پولیس افسروں اور اہلکاروں کو پینٹ شرٹ اور شوپہننا دشوار ترین کا م ہوگا ، ان کیلئے رعایت دینا یا کوئی دوسری راہ نکالنا ہوگا۔