اردو کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے سے طلبہ کو روشناس کرائیں; پروفیسر خالد محمود 

03:08PM Tue 12 Sep, 2017

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں توسیعی خطبے کاانعقاد  اردو زبان صرف ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب ،تاریخ اور وابستگی کا نام ہے ۔اس زبان کو پڑھنے اور اس کی تعلیم دینے والے بہت ہی قابل قدر ہیں ۔اردوکو صرف ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے طور پر پڑھنے اور پڑھانے کی ضرورت ہے ۔افسوس ہے کہ ہم اپنے اس عظ؍یم سرمائے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر اور معرو ف ادیب و شاعر پروفیسر خالد محمود نے مولاناآزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں توسیعی خطبے کے دوران کیا ۔انھوں نے ’’اردو زبان، تہذیب اور تاریخ کے تناظر میں‘‘ توسیعی خطبہ پیش کیا ۔اس موقع پر شعبۂ اردو کے رسرچ اسکالر اور طلبہ نے خصوصی طور پر استفادہ کیا ۔ کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے خیرمقدمی کلمات پیش کیے ۔انھوں نے کہا کہ توسیعی خطبات ہمارے تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے ۔ہم کتاب کے ساتھ ساتھ طلبا کو ادیبوں اور شاعروں سے بھی ملاقات کراتے رہتے ہیں ۔نئے تعلیمی سال کا یہ پہلا لیکچر ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ بہت کم وقت میں پروفیسر خالد محمود صاحب نے نہ صرف ہماری دعوت کو قبول کیا بلکہ ایک اہم موضوع پر طلبہ ان سے مستفیدہونے والے ہیں ۔ڈاکٹر عمیر منظر نے پروفیسر خالد محمود کا تعارف پیش کیا جبکہ ڈاکٹر عشرت ناہید نے شکریے کے کلمات ادا کیے ۔ پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ مادری زبان ہونے کی وجہ سے اس زبان کے تئیں ہماری جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں بدقسمتی سے ہم نے اسے ادانہیں کیا ۔ادب اور تہذیب وثقافت کا ایک بڑا سرمایہ اس زبان میں موجود ہے اور جس طرح ہم اس زبان سے دور ہوتے جارہے ہیں اسی طرح ہم اس کے تہذیبی اور اور ثقافتی سرمایے سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ستم یہ ہے کہ ہمارے اندر اس کا احساس بھی نہیں ہے کہ ہم اپنی زبان سے دور ہورے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک بہترین تہذیب اور ثقافت کوہم کھوتے جارہے ہیں ۔پروفیسر خالد محمود نے مزید کہا کہ اردو کے طالب علموں کے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں لیکن اگر وہ اس زبان کے توسط سے تہذیب و ثقافت اور اخلاق و ادب کے علمبردار بن جائیں تو بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں ۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ زبان محض روزگار کے توسط سے فروغ نہیں پاسکتی جب تک کہ ہمارے اندر اس کے سیکھنے کا شوق اور جذبہ نہ ہو ۔ اس موقع پر انھوں نے طلبہ بالخصوص رسرچ اسکالر زسے کہاکہ آپ کی محنت اور کوشش بہت سے بند دروازوں کو کھولتی ہے ۔ضرورت ہے کہ ہم اردو والے خلوص اور باہمی اشتراک سے کام کریں اور کام کے جذبے کو فروغ دیں ۔انھوں نے اس موقع پرکہا کہ اطلاعاتی ٹکنالوجی کے سبب اب اردو کی سرگرمیوں کی خبریں خوب ملتی ہیں ۔ضرورت ہے کہ ہم اس تہذیبی اور ثقافتی تناظر میں جوکہ اردو کی تاریخ کا سب سے روشن پہلو ہے طلبہ کو نہ صرف روشناس کرائیں بلکہ اس طرف بعض عملی اقدامات کا خاکہ بھی مرتب کریں تاکہ نئے حوصلہ اور جذبے کے ساتھ کچھ کام کیا جاسکے ۔اس موقع پر ڈاکٹر مجاہد الاسلام اور ڈاکٹر نور فاطمہ بھی موجود تھے ۔