شہریت ترمیمی قانون کو لے کر مشہور شاعر راحت اندوری نے وزیر اعظم مودی پر کیا طنز ، کہی یہ بڑی بات
03:10PM Fri 7 Feb, 2020
اردو کے مشہور شاعر راحت اندوری نے طنز کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے اپیل کی ہے کہ انہیں کسی تعلیم یافتہ شخص سے ملک کا آئین پڑھوا کر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اس میں کیا لکھا ہے اور کیا نہیں ۔ شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف گزشتہ کئی دنوں سے مدھیہ پردیش میں اندور کے بڑوالی چوکی علاقہ میں جاری احتجاج کے اسٹیج سے انہوں نے یہ بات کہی ۔ راحت اندوری کے اس بیان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم مودی سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ وہ آئین پڑھ نہیں پائے ہیں تو کسی تعلیم یافتہ آدمی کو بلا لیں اور اس سے آئین پڑھواکر سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس میں کیا لکھا ہے اور کیا نہیں ۔
انہوں نے سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے معاملہ پر دہلی کے شاہین باغ اور اندور کے الگ الگ علاقوں میں جاری احتجاج کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی ہندوستان کے ہر ہندو ، مسلم ، سکھ اور عیسائی کی لڑائی ہے ، ہم سب کو مل کر یہ لڑائی لڑنی چاہئے ۔ فیض احمد فیض کی نظم ہم دیکھیں گے کو ایک خاص مذہب کے خلاف بتائے جانے کے تنازع پر بھی راحت اندوری نے اپنی رائے ظاہر کی ۔ نظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے فیض کی اس نظم کا مطلب ہی بدل دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے فیض کی نظم کا مطلب تبدیل کئے جانے پر حیرانی نہیں ہوئی ، کیونکہ ایسا کرنے والے لوگ کم پڑھے لکھے ہیں ۔ وہ نہ تو ہندی جانتے ہیں اور نہ ہی اردو ۔ اندوری نے سی اے اے مخالف اسٹیج سے اپنے مختلف اشعار بھی سنائے ۔ اس موقع پر انہوں نے اپنا مشہور شعر : سبھی کا خون شامل ہے یہاں کی مٹی میں ، کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے ، بھی پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ ان کے اس شعر کو میڈیا اور کچھ لوگوں نے صرف مسلمانوں سے جوڑ دیا جبکہ اس شعر کا تعلق ہر اس ہندوستانی شہری سے ہے ، جو اپنے مادر وطن کیلئے جان تک قربان کرنے کا جذبہ رکھتا ہے ۔