دھرنا پر بیٹھے مدرسہ کے اساتذہ کی مانگ بلاتاخیر پوری کرے ریاستی حکومت: نظرعالم
12:26PM Wed 8 Mar, 2017
وزیراعلیٰ نتیش کمار اور گورنر بہار سے فوری مانگ پوری کرنے کیلئے بیداری کارواں نے کیا مطالبہ
دربھنگہ (بھٹکلیس نیوز)آج مورخہ 7 مارچ کو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے زونل دفتر میں ایک ہنگامی اجلاس کارواں کے قومی صدرجناب نظرعالم کی صدارت میں بلائی گئی۔ اجلاس میں ہفتوں سے پٹنہ میں دھرنا پر بیٹھے مدارس کے اساتذہ کی پانچ نکاتی مطالبات پربحث کی گئی۔ اجلاس میں کارواں کے صدر جناب نظرعالم نے کہاکہ ہماری تنظیم پٹنہ میں مدرسہ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے دئیے جارہے دھرنا کو حکومت کی طرف سے نظراندازکئے جانے اور دھرنا دینے والے اساتذہ یونین کے مطالبات پر توجہ نہیں دئیے جانے پربہار کے وزیراعلیٰ نتیش کماراورگورنربہارکوایک مکتوب بھیجاہے اور اس مکتوب کے ذریعہ یہ مطالبہ کیاگیاہے کہ پٹنہ میں ہفتوں سے دھرنا پر بیٹھے مدارس کے ہزاروں اساتذہ کی پانچ نکاتی مطالبات پر فوری طور پر غور کرتے ہوئے بلاتاخیر ان کے مسائل کی تشخیص کیا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عالم نے کہا کہ حیرت ہوتی ہے کہ حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کی لاپرواہی سے بہار بھر میں پھیلے ہزاروں مدرسوں کے ہزاروں اساتذہ بھوک مری کو مجبور ہیں کیوں کہ مدرسہ ایجویشن بورڈ سے منسلک مدارس کے ہزاروں اساتذہ گزشتہ کئی دنوں سے اپنی پانچ نکاتی مطالبات کو لے کر پٹنہ میں دھرنا پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت گڈگورنشن اور سب کا ترقی کا نعرہ تو دیتی ہے لیکن زمین پر ایسا کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا ہے خاص کر اقلیتوں کو ریاستی حکومت بندھوا مزدور سمجھ بیٹھی ہے جو گمراہ کن ہے اور سوچنے کا موضوع بھی ہے۔ مدارس کے اساتذہ آئینی طریقے سے پٹنہ میں یکم مارچ 2017 سے ہی اپنی پانچ نکاتی مطالبات کو لیکر دھرنا پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ریاستی حکومت کا نہیں تو کوئی وزیر ان کی خیریت لینے پہنچا اور نہ ہی کوئی محکمہ تعلیم کے افسران۔ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی یہ حکومت اقلیتوں کو مکمل طور پر نظرانداز کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتی طبقہ کے درمیان ریاستی حکومت کے خلاف غصہ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ریاستی حکومت کے کچھ مسلم لیڈران کسی مسئلے پر وزیراعلیٰ نتیش کمار اور ان کی حکومت سے بات کرنے جاتے ہیں تو انہیں اوقات میں رہنے کی نصیحت دیتے ہوئے پھٹکار لگائی جاتی ہے جو قابل مذمت ہے۔ آخر یہ کھیل کب تک چلے گا۔ ریاستی حکومت یہ کیوں بھول جاتی ہے کہ عظیم اتحاد کو اقتدار دلانے میں اقلیتوں نے اپنا 100 فیصد ووٹ دیا ہے۔ سال سال بھر سے تنخواہ نہ ملنے والے سرکاری ملازمین کی کیا حالت ہوگی؟ ان کے بال بچوں کا گزارا کیسے ہوتا ہوگا؟ آپ سمجھ سکتے ہیں۔ محکمہ کی لاپرواہی اور بے رخی کے باوجود یہ غریب استاد اپنے مدرسوں میں تعلیمی کام کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے ساتھ ہورہے زیادستی کی شکایت محکمہ تعلیم سے کرتے کرتے اساتذہ یونین بھی تھک چکا ہے۔ مذکورہ اساتذہ کے ساتھ جاری نا انصافی سے منسلک خبریں اخبارات میں مسلسل چھپ رہی ہیں۔ لیکن اس طرف نہیں تو کسی وزیراور نہیں تو وزیرتعلیم/تعلیمی محکمہ توجہ دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہار میں قائم عظیم اتحاد کی حکومت اقلیتی اداروں سے آنکھیں بند کرچکی ہیں اور ان کے مسائل کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنے پر آمادہ ہے۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کی مانگ ہے کہ مدرسہ میں تعینات اساتذہ اور ملازمین کو اسکول میں تعینات اساتذہ کی مانند 5200-20200 کا گریڈ دینے کے ساتھ ساتھ مکمل سہولیات کے ساتھ ساتنواں ویتن بھی دیا جائے۔ ساتھ ہی مدرسہ ایجویشن بورڈ پٹنہ میں کسی قابل شخص کو صدر منتخب کیا جائے تاکہ مدرسہ بورڈ کا کام کاج آسانی سے چل سکے تاکہ مدرسوں اور اساتذہ کو ہورہی مشکلات سے چھٹکارا مل سکے۔ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کارواں کے ترجمان اکرم صدیقی نے کہا کہ اگر مدرسہ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن پٹنہ کی پانچ نکاتی مطالبات پر بلاتاخیر ریاستی حکومت نے غور نہیں کیا اور دھرنا پر بیٹھے اساتذہ سے بات چیت کے لئے وزیرتعلیم اور محکمہ تعلیم کے افسران کو بلاتاخیر نہیں بھیجا تو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں اساتذہ یونین کی حمایت میں سڑکوں پر اُترے گا۔ اجلاس میں نائب صدر مقصود عالم پپو خان، جنرل سکریٹری وجئے کمار جھا،صباحت افتخار، شمس تبریز جگنو وغیرہ بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔