مسلم خواتین میں بیداری پیدا کرنے کے لئے پرسنل لاء بورڈ کی ویمنس وینگ کے زیر اہتمام ورکشاپ
03:41PM Sat 23 Sep, 2017
بنگلور :(بھٹکلیس نیوز) آج یہاں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ویمنس وینگ کی طرف سے مسلم خواتین کیلئے ایک ورکشاپ اور پبلک پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں مسلم پرسنل لاء ، تحفظ شریعت ۔شادی طلاق زور دیا گیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ویمنس وینگ کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر اسماء زہرہ نے اُردو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم خواتین میں بیداری مہم طلانے کیلئے ا سطرح کے ورکشاپ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اب تک چھ ورکشاپ منعقد ہوچکے ہیں حیدد آباد بمبئی۔ جے پور، میں منعقد ورکشاپ کامیاب رہے کرناٹک میں بنگلور کے بعد 24 ستمبر کو بلاری اور اس کے بعد رائچور میں پبلک میٹنگ منعقد ہوں گے۔آج یہاں منعقد ورکشاپ میں ڈاکٹر اسماء زہرہ کے علاوہ ڈاکٹر آصفہ نثار کو آرڈی نیٹر ویمنس وینگ سلام سنٹر کی محترمہ شبانہ فردوس، جماعت اسلامی کی محترمہ فوزیہ سلطانہ شریعت کمیٹی حید آباد کی محترمہ دوریہ حسن ۔تسنیم فرزانہ ، شاہین فاطمہ، ریحانہ ، صابرہ اعجازوغیرہ نے خطاب کیا۔ آج کے ورکشاپ میں شہر اور بیروں شہر کی خاتون تنظیموں کی ذمہ دار خواتین شریک تھیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اسماء زہرہ نے بتایا کہ اسلام نے خواتین کو برابر کے حقوق دیتے ہیں قرآن وحدیث کی تعلیمات کی کمی کی وجہ طلاق جسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں لیکن یہ مسائل اتنے نہیں ہیں۔ جسے میڈیا بڑ ھا چڑھا کر پیش کرتا اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے میڈیا جنیلوں میں ایسی خواتین کو تیار کرکے لایا جاتا ہے جن کا اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا انہوں نے بتایا کہ جہیز اور طلاق کا مسئلہ دیگر ذات برادریوں میں بھی موجود ہے لیکن اس کو نزانداز کیا جاتا ہے ۔ڈاکٹر اسماء نے بتایا کہ پرسنل لاء بورڈ نے مسلم خواتین کے اندر بیداری پیدا کرنے کیلئے بیٹرہ اٹھایا ہے مسلم خواتین کو اسلام کی روشنی میں شادی ،بیاہ ، طلاق، میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں جسیے معلومات فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے معلومات فراہم کرنے کیلئے فری ہلپ لائن بھی قائم کیا گیا ہے ٹیلی فون کالس پر معلومات فراہم کی جارہی ہیں روزانی تقر یباً 80کالس موصول ہوتے ہیں اور گذشتہ دس ماہ کے دوران 40 ہزارکالس پر معلومات فراہم کی گئی ہیں اور اس کا خاطر خواہ فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ڈاکٹر اسماء اس بات کو تسلیم کیا کہ بیداری مہم کوگاؤں دیہات اور سپماندہ علاقوں اور محلوں میں بھی شروع کرنا ہے اور اس کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اگر عورت اپنی حفاظت کے ساتھ نوکری کرنے کیلئے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس میں کوئی قباحث نہیں ہے اور کہا کہ شادی سے پہلے لڑکا لڑکی اور ان کے خاندان کے افراد کے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں جانکاری دی جاتی ہے تو ازدواجگی زندگی میں مسائل پید ا نہیں ہوتے ۔ میڈیا کانفرنس میں ڈاکٹر آصفہ نثار بھی موجود تھیں۔