رہنمائے کتب : التوضیح لشرح الجامع الصحیح ۔۔۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری
02:24PM Sat 15 Jul, 2017
Share:
نام کتاب : التوضیح لشرح الجامع الصحیح
مصنف : امام ابن الملقن
تحقیق زیر سرپرستی : خ الد الرباط و جمعہ فتحی
جلدیں : (۳۷) مع فہارس صفحات : اندازا فی جلد ﴿۶۷۵﴾
سنہ اشاعت : ۱۴۲۹ھ !۲۰۰۸ء
حدیث نبوی کی کتابوں میں اللہ تعالی نے صحیح بخاری کو امت میں جومقبولیت دی وہ کسی طالب علم پر مخفی نہیں ہے، علمائے امت نے صحت میں اسے کتاب اللہ کے بعد دوسرا درجہ دیا اور اہل علم کے ایک بڑے طبقہ نے اس کی شرح و بسط میں اپنی صلاحیتیں صر ف کیں۔اندا زا اس کی عربی زبان میں (۱۴۳) سے زیادہ شرحیں لکھی جاچکی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ ان شرحوں میں حافظ ابن حجر عسقلانی کی فتح الباری کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ علاوہ ازیں علامہ عینی کی عمدۃ القاری بھی اس کے قدم بہ قدم رہی۔ ان شرحوں میں سے کئی ایک کافی عرصہ سے چھپ رہی ہیں ۔ جو شرحیں اب بھی صدیوں سے قلمی کتابوں کی دبیز الماریوں میں روشنی سے دور ہیں وہ بھی اب مسلسل منظر عام پر آرہی ہیں۔گذشتہ دو دہائی میں ان میں سے کئی ایک تحقیق کے اعلی معیارات کے ساتھ زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں۔ ان میں حافظ ابن رجب کی فتح الباری علامہ زروق کی شرح البخاری وغیرہ شامل ہے۔
اس دوران شروح بخاری کے تعلق سے جو سب سے بڑا کام منظر عام پر آیا ہے وہ ہے۔ امام ابن الملقن کی کتاب التوضیح لشرح الجامع الصحیح ۔تین جلدوں میں انڈکس سمیت جملہ﴿ ۳۶ ﴾جلدوں میں یہ شرح شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے۔
امام عمر بن علی بن احمد ،سراج الدین ، ابو حفص انصاری اندلسی الاصل شافعی معروف ابن الملقن وفات ۸۰۴ ھ کا شمار نویں صدی کے عظیم علماء و مصنفین میں ہوتا ہے۔ آپ کے شاگردوں میں اس دور کے عظیم فقہاء اور محدثین مثلا ابوزرعہ عراقی ، احمد بن عثمان الریشی ،احمد بن علی المقریزی ، حافظ ابن حجر العسقلانی کا شمار ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر کا کہنا ہے کہ نویں صدی کے آغاز میں حافظ عراقی ، علامہ بلقینی اور ابن الملقن خدا کا ایک عجوبہ تھے۔
ابن الملقن کا شمار اپنے دور کے کثیر التصانیف ائمہ میں ہوتا ہے، ان کی تعداد (۳۰۰) تک پہنچتی ہے۔ا ن میں سے بعض کتابیں اپنے فن پر سب سے جامع اور بڑی سمجھی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں سے البدر المنیر فی تخریج احادیث الشرح الکبیر پندرہ جلدوں پر مشتمل ہے، اس میں آپ نے امام رافعی کی شرح الوجیز کی احادیث کی تخریج کی ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ کی کتاب تلخیص الحبیربنیادی طور پر اسی کتاب کا خلاصہ ہے۔اور یہ احادیث الاحکام کی تخریج کے موضوع پر سب سے بڑی اور جامع کتاب سمجھی جاتی ہے۔ صحیح بخاری کہ یہ شرح بھی کئی لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے۔
۔ یہ بخاری شریف کی سب سے بڑی شرح ہے۔
۔صحیح بخاری کے ابواب کی ترتیب پر یہ علوم شرعیہ کا ایک بڑا نسائیکلوپیڈیا ہے۔
۔ یہ حدیث ، روایت درایت ، غریب حدیث ، فقہی قواعد ، اصول فقہ اور عقائد پر مشتمل ہے۔
۔یہ بخاری کے بعد کی شرحوں مثلا فتح الباری ، عمدۃ القاری وغیرہ کا مرجع ہے۔
۔امام ابن الملقن نے اس شرح پر ۷۶۳ھ سے ۷۸۵ھ تک جملہ بائیس سال صرف کئے اور آخر دم تک اس میں کمی بیشی کرتے رہے جس کی وجہ سے یہ کتاب مصنف کے علوم وتجربات کا نچوڑ بن گئی۔
۔ اس کتاب کے ذریعے بخاری شریف کی شرح مہلب ابن ابی صفرہ ، شرح مغلطائی ، شرح ابن التنین کے مواد تک رسائی حاصل ہوئی جو اب گم شدہ شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح جامع القزاز ،الصحاح ابن السکن ، الدلائل سرقسطی ،الامالی ابن مندہ ، کتاب البسملہ ابو محمد المقدسی ،الامالی الشارقہ للرافعی ،الموعب التبانی، کشف النقاب ابن الجوزی ،احکام ابن الطلاع ،مطالع الانوار ابن قرقول ،الواعی الکلاعی ، شرح التنبیہ نجم الدین الامالسی ، مسند ابن منیع جیسی کتابیں جو کہ گم شدہ شمار ہوتی ہیں ان کا علمی مواد اس میں محفوظ ہے۔
فاضل محققین نے ممکنہ طور پر کتاب کی تحقیق کو جدید معیارات کے مطابق معتبر بنانے کی کوشش کی ہے۔اس کے لئے انہوں نے اپنے سامنے کتاب کے سات قلمی نسخے رکھے ہیں ، جن میں آپ کے شاگرد رشید علامہ برھان الدین حلبی ( سبط ابن العجمی ) کے ہاتھ سے لکھے چار جلدوں پر مشتمل نسخہ کو اصل بنایا گیا ہے، اور اس کا مقابلہ مختلف دور میں نقل کئے گئے قلمی نسخوں سے کیا گیا ہے۔
محقق حضرات نے اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ بخاری شریف کے جملہ متن اور شرح کی اہم عبارتوں پر اعراب لگانے کا اہتمام کیا جائے
شرح میں جن شخصیات کا تذکرہ ہو ان کے بارے میں مختصر معلومات فراہم کی جائیں۔ جو اقوال نقل ہوں ان کے کہنے والے کا حوالہ دیا جائے۔فقہی مسائل کی توثیق مختلف مراجع سے کی جائے۔اس طرح (۲۶) موضوعات کہ مفصل فہرست تین جلدوں میں تیار کی جائے۔
اس کتاب کی تحقیق کا کام دار الفلاح فیوم مصر کے زیر نگرانی (۲۱) علماء نے انجام دیا ہے۔
" ارمغان جامعہ بھٹکل میں طلبہ مدارس کے لئے سلسلہ وار تعارفی مضامین رہنمائے کتب کے لئے یہ مضمون لکھا گیا تھا"