کیجری وال پر بھری تقریب میں خاتون نے سیاہی پھینکی
03:57PM Sun 17 Jan, 2016
طاق و جفت منصوبے کی کامیابی سے منسلک تقریب کے رنگ میں بھنگ
عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو نشانہ بنایا،دہلی پولیس نے الزام کومستردکیا
کانگریس اور بی جے پی نے مذمت کی ،اندرونی چپقلش کا نتیجہ قرار دیا ،نائب وزیر اعلیٰ سسودیا سیکوریٹی کی کمی پر برہم ،قتل کے منصوبہ کی سازش کا خدشہ ظاہر کیا
نئی دہلی، 17 جنوری ۔ دارالحکومت میں طاق و جفت منصوبے کی کامیابی سے منسلک تقریب میں آج اس وقت رنگ میں بھنگ پڑ گیا جب ایک خاتون نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر سیاہی پھینک دی۔ کانگریس اور بی جے پی نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے بی جے پی نے اسے عام آدمی پارٹی کی آپسی چپقلش کا نتیجہ قرار دیا تو دوسری طرف دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے صورت حال کیلئے سیکوریٹی کی کمی کو ذمہ دار دیا اور کہا کہ اس طرح دہلی کے وزیر اعلیٰ یا وزیر کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔پرائیویٹ کاروں کے لئے طاق و جفت منصوبے کی کامیابی کا جشن منانے کے لئے چھترسال اسٹیڈیم میں منعقد تقریب سے خطاب کے لئے جیسے ہی مسٹر کیجریوال کھڑے ہوئے ، ویسے ہی ایک خاتون نے پولیس کا محاصرہ توڑ کر ان پر سیاہی پھینک دی۔بھاونا اڑورہ نامی خاتون نے وزیر اعلی کی طرف کاغذ کے چند ٹکڑے بھی اچھالے ۔ وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے خاتون کو قابو میں لے لیا اور اسے باہر لے گئے ۔ خاتون خود کو عام آدمی سینا کا رکن بتا رہی ہے ۔خاتون کا کہنا تھا کہ عام آدمی پارٹی (آپ) کی حکومت دارالحکومت میں تجرباتی طور پر چلائی گئی طاق و جفت منصوبے کی کامیابی پر تالیاں موصول کر رہی ہیں اور اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے ، جبکہ اس کی آڑ میں سی این جی گھوٹالہ ہوا ہے ۔ خاتون نے دعوی کیا ہے کہ سی این جی گھوٹالے سے منسلک دستاویزات اس کے پاس موجود ہیں۔ اس پر مسٹر کیجریوال نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ ملزم خاتون کے پاس موجود دستاویزات لے لیں۔تقریب میں مسٹر کیجریوال کے علاوہ وزیر ٹرانسپورٹ گوپال رائے ، دیگر وزرا، پارٹی کے سینئر لیڈر ان اور ممبر ان سمبلی موجود تھے ۔واضح رہے کہ دہلی کے چھترسال اسٹیڈیم میں جفت طاق فارمولے کے 15روزہ کامیاب تجربہ کاجشن منا رہے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال پرسیاہی پھینکنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔اتوار کو دوپہر بعد وزیراعلیٰ جب اسٹیج سے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے تبھی ایک خاتون نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ان پر سیاہی پھینکی۔خواتین کو پولیس نے گرفتار کرکے کیس درج کر لیا ہے۔نائب وزیراعلیٰ سسودیا نے کہا یہ سی ایم کے قتل کی سازش ہے۔خاتون نے اپنا نام ارورہ بتایا ہے اور وہ خود کو پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی رکن بتارہی ہے۔معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ کجریوال نے جیسے ہی پلیٹ فارم سے اپنا خطاب شروع کیا خواتین بھیڑ سے نکل کراسٹیج کے قریب پہونچی اور اس نے وزیر اعلیٰ کی طرف سیاہی پھینک دی۔سیاہی کجریوال کے منہ اور شرٹ پرپڑی۔عورت کے ہاتھ میںکچھ کاغذات بھی تھے جن پر کچھ لکھا ہوا تھا۔تاہم جب تک وہاں موجود سیکورٹی اہلکاراور کارکن خواتین تک پہونچنے تک خاتون سیاہی پھینک چکی تھی اور کاغذوں کو بھی اسٹیج کی طرف اچھال دیا تھا۔سیاہی پھینکنے کے بعدعورت کواسٹیج سے دور لے جایا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ کجریوال نے پولیس اور کارکنوں سے عورت کو چھوڑ دینے کی بات کہی ہے۔کجریوال نے اسٹیج سے کہاکہ انہیں چھوڑ دیجئے، ان کو چھوڑ دیں۔وہ کسی گھوٹالے کی بات کر رہی ہیں۔ان کے ہاتھ سے کاغذات لے لیں۔وہ سی این جی گھوٹالے کی بات کر رہی ہیں۔گوپال رائے نے اسٹیج سے کہا کہ جب مخالف 15دنوں میں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو انہوں نے اب یہ ہنگامہ کیا ہے۔اسٹیڈیم میں پروگرام طے وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب کجریوال پر سیاہی پھینکی گئی ہو۔اس سے پہلے ایک بار بنارس میں اور ایک بار دہلی میں پہلے بھی ان پرسیاہی پھینکی گئی ہے۔دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے اس سیاہی سانحہ کو بی جے پی کی سازش قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جو کچھ ہوا صاف ظاہر ہے کہ دہلی پولیس کو وزیر اعلیٰ کی حفاظت کی کوئی فکر نہیں ہے۔وہاں دہلی کی پوری کابینہ بیٹھی تھی،ہزاروں لوگ تھے، لیکن پولیس ذرا بھی الرٹ نہیں تھی۔صاف ظاہر ہے کہ یہ بی جے پی کی سازش ہے اور اس وجہ سے پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔کل کو کوئی ایسے پروگرام میں تیزاب پھینک کر چلا جائے گا، پھر پولیس کیا کرے گی۔مرکزی حکومت اور پولیس کو اس طرف کارروائی کرنی چاہئے۔سسودیا نے مزید کہا کہ یہ کجریوال پر حملہ کروانے کی سازش ہے اورظاہر طور پرپولیس جس طرح کام کر رہی ہے، ان کی جان کو خطرہ ہے۔ان سب کے درمیان دہلی پولیس نے منیش سسودیا کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔پولیس نے بیان جاری کرکے کہا کہ چھترسال اسٹیڈیم میں چار تھانوں کی پولیس کے علاوہ دہلی آرمڈ پولیس کی بھی تعیناتی کی گئی تھی۔خود وزیر اعلیٰ کجریوال کو Z زمرہ کی سیکورٹی حاصل ہے۔اسٹیڈیم میں کل 250پولیس اہلکاروںکی تعیناتی کی گئی تھی۔ان میں ایک اے سی پی، چار انسپکٹر،سب انسپکٹر، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل کی پوری ٹیم تعینات تھی۔واقعہ کے فوراََ بعد رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ’’آپ‘‘لیڈر کپل مشرا ن کہاکہ میںبس یہی کہنا چاہوں گا کہ کچھ لوگ کجریوال جی کے خلاف، عام آدمی پارٹی کے خلاف سازش رچ رہے ہیں۔میں بس یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ سازش کی سیاست کرکے کامیاب ہو جائے گا تو یہ غلط سوچ ہے۔