دہشت گرد بنتے یا بنائے جاتے ہیں پیدا نہیں ہوتے؛ رام پنیانی
06:42AM Wed 19 Apr, 2017
(ڈاکٹر رام پنیانی جی دو دن قبل بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کی دعوت پر بھٹکل آئے ہوئے تھے، اور انہوں نے نوائط کالونی میں منعقد عوامی اجلاس میں "ہندوستانی سیات اور اقلیت- ماضی، حال اور مستقبل" کے عنوان پر خطاب کیا تھا جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔ ادارہ)
دہشت گردی کا مقصد: ہندوستان بھر میں بلی کا بکرا مسلمانوں کو بنا کراس پر سیاست ہوئی اور مسلمانوں کو بڑے منصوبوں کے ساتھ پکڑا جانے لگا۔ نائن الیوین کے بعد سے یہ واقعات شروع ہوئے۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور امن کا گہرا تعلق ہے یہ کبھی دہشت گردی کی حمایت نہین کرتا۔ بلکہ دہشت گردی کا پورا منصوبہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ جمانے کی سازش ہے۔
انڈونیشیا ایک بہت بڑا اسلامی ملک ہے لیکن وہاں ایسی کوئی سرگرمیاں نہیں ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دہشست گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ مارے جانے والے مسلمان ہیں۔ مشرق وسطی میں مسلمان زیادہ ہیں وہاں تیل کے کنویں بھی زیادہ ہیں اور وہیں دہشت گردی زیادہ ہے۔
القاعدہ اور طالبان کو کھڑا کرنے والا خود امریکہ : کولڈ وار میں روس کی فوجوں نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا جس کے امریکہ بہت تلملایا۔ امریکہ اپنی آرمی کو افغانستان بھیجنا چاہتا تھا لیکن اس کی آرمی نے انکار کیا اس لئے کہ ان کی ہمت ٹوٹ چکی تھی وہ اس سے قبل ویتنام پر حملہ کرکے وہاں منھ کی کھا چکے تھے۔ لیکن امریکہ کے لیڈران نے بھی ہار نہیں مانی انہوں نے اپنی آرمی کو رہنے دیا اور افغانستان کے ہی لوگوں کو کھڑا کیا۔ اس پر امریکہ نے آٹھ ہزار ملین ڈالر اور سات ہزار ٹن ہتھیار خرچ کئے۔ وہاں کے نوجوانوں کا برین واش کیا گیا اور ان کے دماغ میں بھرا گیا کہ کافروں کو مارنا جہاد ہے۔ وہاں سے طالبان، القاعدہ اور حال میں داعش کو کھڑا کیا گیا۔
اسلامک دہشت گردی کا نام: امریکہ نے اس سے بڑھ کر جو جرم کیا وہ تھا اسلامک دہشت گردی کا تھا۔ اس سے قبل بھی دنیا میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں لیکن کسی کو مذہب کا نام نہیں دیا گیا۔
ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں: پچھلے بیس سالوں میں مسلمانوں پر غلط الزامات لگائے جارہے ہین لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ڈر جائیں کیوں کہ ہمارا قانون ہمیں آزادی دیتا ہے ہمیں مذہب پر عمل کرنے اور اس کا پرچار کرنے کی آزادی اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اصولوں اور دین پر چل کر ایک اچھا سماج بنا کر دنیا کو سچا جواب دیں۔
بابری مسجد کے واقع نے مجھے ہندومسلم کی سوچ پر مجبور کیا: میں پہلے بالکل ہندو مسلمان کے بارے میں نہیں سوچتا تھا میں اپنے دین پر عمل کرتا تھا ور سوچتا تھا کہ میرے لئے میرا دین اور ان کے لئے ان کا دین ہے۔ لیکن چھ دسمبر 1992/کو بابری مسجد شہید کی گئی تو میرا ضمیر جاگ گیا اور میں نے سوچا کہ یہ ہندوستان کی جمہوریت کا سوال ہے یہ فرقہ وارانہ فساد کروائے جاتے ہیں اس لئے کہ سماج میں نفرت کا زہر بویا جائے تاکہ اس کی آڑ میں سیاست دان اپنا الو سیدھا کرسکیں۔
راجاؤں کے زمانہ کی جنگیں مذہب کے لئے نہیں تھیں: ہندوستان میں صدیوں سے آپسی میل ملاپ تھا، راجا نواب کے درمیان جو جنگیں ہوا کرتی تھیں وہ سب مذہب کے نام پر نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیپو سلطان کے بارے میں کہا کہ ان پر الزام لگایا جاتا ہے لیکن ٹیپو کا سب سے بڑا وزیر برہمن تھا ان کے زیر سرپرستی کئی مندریں تھیں۔
ہندوستان کی دولت لوٹنے والے انگریز تھے: انگریز ہندوستان آئے اور یہاں کی دولت لوٹ کر انگلینڈ لے گئے۔ مسلمان راجا یہاں کے ہوکر رہ گئے انہوں نے یہاں حکومت کی بڑے بڑے قلعے تعمیر کئے ہندوستان کی ترقی کے بارے میں سوچا اور اسی مٹی میں دفن ہوگئے۔ رانا پرتاپ اور اکبر کی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اکبر کی فوج میں اکبر نہیں بلکہ راجا مان سنگھ لیڈر تھا اور رانا پرتاپ کی فوج میں حکیم خان صور لیڈر تھے یہیں سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لڑائی مذہب کے لئے تھی یا طاقت کے لئے تھی۔
انگریزوں نے پھوٹ ڈالا: ہندو مسلمانوں کی یکتا 1857/میں دیکھنے ملتی ہے جہاں انگریزوں کی حکومت نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کا اتحاد دیکھا تو سٹپٹا گئی جس کے بعد انہوں نے ہندو مسلمانوں کے درمیان پھوٹ کا بیج ڈالا جس کا ایک نظریہ باری مسجد کی شہادت کے روپ میں نظر آتا ہے۔
گاندھی کبھی گائے کا گوشت کھانے سے نہیں روکتے: سوچئے کیا گاندھی جی کبھی گائے کا گوشت کھانے سے روکتے؟ انہوں نے آزادی کے بعد کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر راچندر پرساد گاندھی کے پاس پہنچے اور کہا کہ باپو دیکھو اتنے کاغذات ہیں جس میں گو ماس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ گاندھی نے کہا کہ یہ ہندوستان ہے یہاں ہر مذہب کے لوگ ہیں یہ چیز یہاں نہیں ہوسکتی۔آج باپو ہوتے تو انہیں بہت شرمندگی ہوتی۔
کرنا کیا ہے؟: ہماری شکست کے اسباب میں ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم صحیح بات رکھنے میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو دیش بھر میں پھیل کر امن اور سچائی کو پھیلانا ہے۔ تب ہی ہم کامیاب ہوں گے۔ ورنہ جلسوں کے انعقاد کامیابی کے ضامن نہیں ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کہ وہ دیش کے حالات کو سدھارنے کے لئے اپنا وقت نکالیں اور لوگوں کے دلوں سے نفرت کو نکال کر محبت کو ڈالنے والے بنیں تاکہ نفرت کی سیات کرنے اور فساد پھیلانے والوں کو موقع نہ ملے۔
بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن قابل مبارکباد : انہوں نے فیڈریشن کو اس اجلاس پر مبارکباد دی اور آگے ملک میں امن و سچائی پھیلانے اور نفرت کو کم کرنے کی جانب کوشش کرنے کی صلاح دی۔