کنڑا زبان کے مشہور شاعر و پدماشری ایوارڈ یافتہ پروفیسر کے یس نثار احمد کے ہاتھوں
03:31PM Thu 21 Sep, 2017
بین الاقوامی شہرت یافتہ میسور دسہرہ تقریبات کا افتتاح، وزیر اعلی ٰ سدرامیا اور دوسرے وزراء کی شرکت
میسور (بھٹکلیس نیوز)
میسور کے قریب واقع چامنڈی پہاڑ پر کنڑا زبان کے مشہور شاعر و پدما شری ایوارڈ یافتہ پروفیسر کے یس نثار احمد کے ہاتھون
شہر آفاق میسورکے دسہرہ تقریبات کا افتتاح عمل میں آیا۔ چار سو سے زائد تاریخ والا میسور کے دسہرہ میں پہلی مرتبہ ایک مسلم کے ہاتھوں دسہرہ تقریبات کا افتتاح عمل میں آیا ہے۔ پروفیسر صاحب نے پھولوں کی پنکڑیوں کو چامنڈیشوری دیوی کی مورتی پر نچھاور کرکے دسہرہ تقریبات کا افتتاح کیا۔ ریاستی وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا ، میسور ضلع کے انچارج وزیر ڈاکٹر ہچ سی مہادیواپا اور دوسرے معزز شخصیات اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر کے یس نثار احمد نے کہا کہ آج کا دن میری زندگی کا ایک یاد گار اور تاریخی دن ہے۔ یہ میرے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے کہ ریاستی وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا نے مجھے بین الاقوامی دسہرہ کے افتتاح کے لئے منتخب کیا۔ اور میسور کے اس دسہرہ میں ہماری تاریخ، تہذیب وتمدن چھپا ہوا ہے۔ میں میسور ضلع کے ڈپٹی کمشنر مسٹر رندیپ اور میسور ضلع انتظامیہ کا بھی مشکور و ممنون ہوں جنہوں نے مجھے بین الاقوامی شہرت یافتہ دسہرہ تقریات کے افتتاح کرنے لئے منتخب کیا۔ اور میری 62 سال ادبی زندگی کے بعد اس اعزاز کے لئے منتخب کیا۔ اس موقع پر پروفیسر صاحب کنڑا زبان کے مشہور شاعر بیندرے کی ایک نظم کو پیش کیا او کہا کہ میسور کے س دسہرہ کی 400سالہ تاریخٰ ہے اور جس کام کو میسور کے مہاراجاؤں نے آغاز کیا آج تک اس کو نبھایا جارہا ہے۔ جو بہت بڑی بات ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا نے کہا کہ دسہرہ تقریب کے آخری دن دسہرہ جلوس کونئی دہلی میں یوم جمہوریہ کے جلسہ میں جس طرح جلوس نکلالا جاتا ہے اسی طرز پر دسہرہ جلوس کو لیجانے کے لئے انتظامات کئے جارہے ہیں اور پہلے ہی میں نے مرکزی حکومت کے نام ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے فوج اور ائیرفورس کے جوانوں کو میسور روانہ کریں اور میسور کے دسہرہ جلوس میں شرکت کرنے کی گزارش کی ہے۔ اور دسہرہ تقریبات کے موقع پر عوام کا سب سے مقبول ائیر شو منعقد کرنے کے کئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ اور جس طرح نئی دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر جلوس نکالا جاتا ہے اسی طرح کا جلوس نکالنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔اموقع پر شری سدرامیا نے کہا کہ پروفیسر کے یس نثار احمد صرف ایک اچھے شاعر نہیں ہیں بلکہ ایک عظیم انسان ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ 1983 میں جب میں پہلی مرتبی رکن اسمبلی منتخب ہوا اس وقت مجھے کنڑا واچ ڈاگ کمیٹی کا صڈر منتخب کیا گیا ۔ اور اس کمیتی میں پرفیسر کے یس نثار احمد ، سدیا پرانک، دیونور مہادیو، جیسے ادبی شخصیات اراکین تھے۔ اور اس وقت مجھے ادب میں کافی دلچسپی ہے اور لکھنے پڑھنے کا شوق جاگا تھا یہ اور بات ہے کہ میں نے آج تک کوئی چیز نہیں لکھی۔ دسہرہ تقرابات عوامی تیوہار ہے او ر اس میں تمام مذاہب کو شامل کیا جانا چاہئے۔ اور گزشتہ تین سے قحت سالی کے بعد اس سال دسہرہ تقریبات کو عالیشان پیمانے پر منانے ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ جناب تنویر سیٹھ، ریاستی وزیر برائے تعلیم، اوقاف اور اقلیتی بہبود، جناب یو ٹی قادر، اوما شری، اراکین پارلیمان پرتاب سمہا، دھروانارائن ، ااکین اسمبلی شری واسو، شری جی ٹی دیوے گوڈا ، یم کے سوم شیکھر ، کلالے کیشومورتی، میسور کے مئیر یم جے روی کمار، میسور اربن دیولپمنٹ اتھارتی کے چیرمین ڈیدھروا کمار، میسور ضلع کے ڈپٹی کمشنر مسٹر ڈی رندیپ، میسور ضلع پنچایت کے صدر نعمیہ سلطانہ، پروفیسر کے یس نثار احمد کی اہلیہ شہنواز بیگم اور خاندان کے دوسرے افراد اس موقع پر موجود تھے۔