اسرائیل دہشت گرد ملک، اس کےصدر کا استقبال ملک سے دشمنی: جمعیتہ علما ہند کی قیادت میں ملی وسماجی جماعتوں کا جنتر منتر پر احتجاج

03:51PM Fri 18 Nov, 2016

ہر ظلم کے خلاف خواہ وہ ظلم کسی پر بھی ہو اپنی آوازاٹھانا ہم اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ یہ بات جمعیتہ علمائے ہند کے صدر اورامیر الہند مولانا قاری محمدعثمان منصورپوری نے آج یہاں جمعیتہ علمائے ہند کے زیر اہتمام منعقدہ اسرائیل کے خلاف زبردست احتجاج کے دوران صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیتہ علمائے ہند نے ہمیشہ ظالموں کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے اور اس کی کبھی پرواہ نہیں کی کہ ظالم کا قدکتنا بڑا ہے۔ 1.1 انہوں نے کہاکہ اسرائیل فلسطین کے ساتھ مستقل طور پر ظلم کو روا رکھے ہوئے ہے اور روز کوئی نہ کوئی علاقہ یا انسان کو قتل کرتا ہے۔ قاری عثمان نے صدر جمہوریہ کو پیش کرنے والے میمورنڈم میں کہا کہ ’’ہم دہشت گرد ملک اسرائیل کے صدر ریولن کی ہندوستان آمد اور ان کے استقبال کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور ہندوستان کے عوام نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے نیز اسرائیلی جارحیت کے متاثرین فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ میمورنڈم میں جمعیتہ علمائے ہند نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے اپنے مکروہ کردار سے خطہ عرب کو بدامنی کا گہوارہ بنادیا ہے اور فلسطینی شہریوں کی اکثریت کو ان کے گھروں میں سے نکال کر ان کی بستیوں کو تباہ کرکے پناہ گزین کی زندگی گزارنے پر مجبور رکھا ہے۔ اس کے علاوہ 1967سے ناجائز طور پر تسلط حاصل کرکے غزہ اور مغربی کنارے کے عوام پر ہر طرح کے مظالم کو روا رکھا ہے۔اس کے علاوہ عالمی برادری، عالم اسلام اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہوئے چار نکاتی تجاویز بھی پیش کئے۔ 138 جمعیتہ کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارے ملک کی گہری دوستی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب یواین او میں اس کے دوست ممالک کی تعداد کم ہورہی ہے اور دشمن ملک کی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیل نہ صرف دہشت گرد ملک ہے بلکہ دہشت گردی کی پیدائش بھی اسرائیل میں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کی جنگ میں اسرائیل کو شریک کریں گے تو ہماری آواز میں میں اثر نہیں ہوگی۔ انہو ں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اسرائیل سے گہری دوستی سے وقتی طور پر معاشی فائدہ ہمیں حاصل ہوجائے لیکن اس سے ہمارے ملک کا وقار مجروح ہوگا اور طویل مدتی پروگرام اور پالیسی میں کو زبردست نقصا ن ہوگا۔ 620 جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری انجینئر محمد سلیم نے اس دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1992میں اسرائیل کے ساتھ قائم ہونے والا سفارتی تعلق اب گہری دوستی میں تبدیل ہوگیا ہے اور انہوں نے دعوی کیا کہ اس تعلق کے نتیجے میں مسلمانوں پر مظالم بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اسرائیل ہمارے اندرونی معاملات سمیت سیکورٹی اور تربیت میں بھی دخیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو دہشت گردی سے لڑنے کا تجربہ ہے لیکن سچ بات یہ ہے کہ اسرائیل کو دہشت گردی سے نہیں بلکہ بے گناہوں لوگوں کو قتل کرنے کا تجربہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پورے ملک کو اسرائیل بنانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جو کچھ اسرائیل فلسطین میں کر رہاہے وہ ہندوستان میں نہیں ہونے دیاجائے گا اور اسرائیل سے دوستی کا راستہ تباہی کا راستہ ہے۔ 223 مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ اگر ہمارے ملک کے حکمرانوں کے لئے اسرائیل رول ماڈل ہے تو یہ ہندوستان کے لئے شرم کی بات ہے اور ہندوستان نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے جمعیتہ علمائے ہند کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ملک کے عوام کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ ہے اور ظالم کوئی بھی ہو اس کے خلاف میدان میں آئے گی۔ اس موقع پر مولانا مفتی عفان منصورپوری نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن حالیہ چند برسوں میں اسرائیل کے ساتھ دوستی گاڑھی ہورہی ہے اور یہ صرف مسلم دشمنی ہی نہیں ہے بلکہ ملک دشمنی بھی ہے۔ 422