سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جہیز ہراسانی شکایت پرفوراً گرفتاری
12:20PM Sat 15 Sep, 2018
نئی دہلی۔15ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے آج اپنے ایک اہم فیصلہ میں کہا ہے کہ جہیز کے لئے ہراساں کرنے کا معاملہ درج ہونے کے فوراً بعداب متاثرہ خاتون کے شوہر اور ان کے سسرال والوں کو گرفتار کیا جا سکے گا۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے جمعہ کو عدالت عظمیٰ کے ہی سابقہ فیصلے میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے رشتہ داروں کو ملنے والا قانونی تحفظ ختم کر دیا۔ جہیز کے لئے ہراساں کرنے کی صورت میں فوری طور پر گرفتاری پر روک کے خلاف دائر درخواستوں پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ متاثرہ کی حفاظت کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے ۔بنچ نے کہا کہ معاملے کی شکایت کی انکوائری کے لئے خاندانی بہبود کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے ۔ پولیس کو اگر ضروری لگتا ہے تو وہ ملزم کو فوراً گرفتار کر سکتی ہے ۔ ملزمان کے لئے پیشگی ضمانت کا متبادل کھلا ہے ۔ سپریم کورٹ نے اسی سال اپریل میں تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال27جولائی کو جسٹس آدرش کمار گوئل اور جسٹس اودے امیش للت کی بینچ نے جہیز کے لئے ہراساں کرنے کے معاملے میں انسداد قانون کے غلط استعمال کی شکایات کو دیکھتے ہوئے ایسے معاملات میں شوہر یا سسرال والوں کی فوری گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔جسٹس مشرا نے آج اپنے فیصلے میں کہا کہ بظاہر498اے کے دائرے کو کم کرنا عورت کو متعلقہ قانون کے تحت حاصل حق سے محروم کرنا ہے اور دو رکنی بینچ کے فیصلے کے تحت دیئے گئے قانونی تحفظ سے وہ متفق نہیں ہیں۔ تین رکنی بنچ نے اس معاملے میں ایڈوکیٹ وی شیکھر کو عدالتی رفیق بنایا تھا۔