کشمیریوں پر تشدد کا معاملہ : سپریم کورٹ کے حکم کا عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی نے کیا خیر مقدم ، کہی یہ بات

01:56PM Fri 22 Feb, 2019

جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز عدالت عظمیٰ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا جس کے تحت ملک کی گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں اورپولیس کے سربراہوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں پلوامہ خود کش حملہ کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں مقیم کشمیریوں پر مبینہ حملوں کے خلاف دائر عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہوئی ، جس دوران عدالت عظمیٰ نے گیارہ ریاستوں کے چیف سیکریٹریوں، پولیس سربراہوں اور دہلی کے پولیس کمشنر کے نام ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کشمیریوں اور دیگر اقلیتی فرقوں کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فوری اور ضروری اقدام کریں۔
 نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا مشکور ہوں کہ اس ادارے نے وہ کام کیا جو دہلی میں منتخب قیادت کو کرنا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر ابھی انکار کرنے میں ہی مشغول تھے اور گورنر دھمکیاں دینے میں ہی مصروف تھے کہ عدالت عظمیٰ نے مداخلت کی۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ریاست کشمیری طلبہ کی ہراسانی اور ان کےخلاف سوشل بائیکاٹ پر روک کو یقینی بنانے کے لئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے تسکین حاصل ہوئی ہے ۔