اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت و احترام وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی و پر ہیز گار ہے : مولانا محمد مقصود عمران رشادی
03:38PM Sat 8 Jul, 2017
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)
نکاح کا تعلق صرف دو افراد سے نہیں بلکہ دوخاندانوں اور دو گھرانوں سے بھی ہے اس لئے بوقت نکاح یہ دیکھا جانا چا ہئے کہ زوجین دین و اخلاق معا شرتی طور طریق سماجی حیثیت اور مال و دو لت میں برابر ہوں شریعت میں کفا ئت سے مقصود یہ ہے زوجین شاہراہ حیات میں قلبی اور رو حی اعتبار سے ایک ہوں دونوں کے در میان مؤدت و رحمت ہو اور دونوں ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں کیوں کہ معا شرتی زندگی میں کبھی پیشہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے تو کبھی مال و دو لت کہیں خاندان اہم ہوتا ہے تو کہیں حریت عرب میں پہلے نسب اور خاندان اہم تھا مگر افرطِ زر نے اس کی اہمیت گھٹا دی اب وہاں کثرِ مہر کی بنیاد پر شادیاں ہو تی ہیں ہمارے معاشرہ میں بیشتر تعلیم کو فق یت دی جا تی ہے جبکہ دیہاتوں میں خاندان کو بر تری حاصل ہے قرآن مجید میں شرافت وفضیلت کا معیار تقویٰ ہے مذکورہ زرین خیالات کا اظہار جامع مسجد بنگلورسٹی کے خطیب وامام حضرت مولانامحمد مقصور عمران صاحب رشادی بروز جمعہ۷ جولائی۲۰۱۷ ء کو ماہ رمضان کے بعد مختصر وقفہ کے بعد جامع مسجد سٹی میں ہونے والی اجتماعی محفل نکاح میں فر مایا نیز آپ نے بتایا کہ اللہ نے سورۂ حجرات میں فر مایا ہے کہ اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تم کو مختلف قبیلوں اور جماعتوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے سے متعارف ہو سکو بیشک تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت و احترام وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی وپرہیز گار ہے آیات قر آنیہ کی رو سے اولاد آدم بحیثیت انسان برا بر ہیں اور کسی کے پیشہ کو بنیاد بنا کر شرافت و رذالت کا معیار مقرر کر نا شریعت اسلامیہ کی روح کے خلاف ہے کفائت سے یہ سمجھنا کہ اسلام بھی اونچ نیچ اور ذات پات کا قائل ہے سراسر غلط فہمی ہے اللہ نے فر ما یا فانکحوا ما طاب لکم من النساء میں یک گو نہ انسا نی پسند و ناپسند کو اہمیت دی گئی ہے اور یہ پسند کبھی حسن و جمال کبھی خاندان کبھی نسب کبھی مال کبھی تعلیم اور کبھی پیشے میں بھی ہو تا ہے اگر وقت نکاح ان امور پر تو جہ دی جاتی ہے تو اس میں کو ئی حرج نہیں ہے بلکہ رشتہ کی مضبوطی و استواری کے لئے یہ ضروری ہے احادیث نبوی اور آثار صحابہ میں اس کی مثالیں ملتی ہیں خود نبی ﷺ نے حضرت زینب کا نکاح اپنے آزاد کر دہ غلام حضرت زیدؓ سے کیا عبد الرحمن بن عوفؓ نے اپنی بہن حضرت ہا لہ کا نکاح حضرت بلال ؒ حبشیؓ سے کیا خود حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے بیٹے حضرت عا صم کا نکاح ایک جھونُری میں رہنے والی بوڑھی بچی سے کر دیا جس سے دین و تقویٰ کی فو قیت ظاہر ہو تی ہے مگر یاد رکھنا چا ہئے کہ ہر فرد یا معا شرہ دین و تقویٰ کے اعلیٰ پیمانے پر فا ئز نہیں ہو تا اس لئے شریعت کی نگاہ میں دنیاوی معیارات بھی قابل تو جہ ہے اور کفائت سے یہی مطلوب ہے نیز مولانا خدا سے اپنا رشتہ مضبوط جوڑنے اور سنت نبوی کے مطابق اپنی اجدواجی زندگی کو ڈھالنے کی طرف تو جہ مبذول کرا ئی اور بتایا کہ کسی بھی موقع پر لفظ طلاق کے استعمال سے گریز کریں ہاں کو ئی اگر ایسی بات پیش آ جا ئے تو بڑوں کے سامنے اپنا اپنا مدعا بیان کرکے مسئلہ کو حل کر نے کی کوشش کریں نہ کہ بات بات پر طلاق کا لفظ استعمال کر کے جو گھر آباد ہونے چا ہئے تھے ان کے ٹوٹنے کا ذریعہ بنیں مولاناموصوف نے بعد ازاں خطبۂ نکاح پڑھا اور ایجاب و قبول کرایامولانا محمد مقصود عمران رشادی کی مستجاب دعاؤں پر اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔شرکاء مجلس میں ٹرسٹیان جامع مسجد کے علاوہ عاقدین کے رشتہ دار اور مصلیان کرام کثیر تعداد میں شریک رہے اور خصوصا سکریٹری الحاج سید نور الامین انور صاحب ، نائب سکریٹری سید عبد الغفور، نوید احمد صاحب ٹرسٹی جامع مسجد ،الحاج محمد اشفاق صاحب ڈاکٹر عبد الحمید صاحب، محمد منصور امریکہ مولانا محمود الحسن مون اسٹار مشتاق احمد نثار احمد گلستان ایلکٹریکلس بنگلور وغیرہ قابل ذکر ہیں ہ