اے ایم یو انتظامیہ نے دو کشمیری طالب علموں کی معطلی کو کیا منسوخ، طلبہ نے کیا خیرمقدم

12:27PM Wed 17 Oct, 2018

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھنے والے کشمیری طلباء کی معطلی کو منسوخ کرنے کے یونیورسیٹی انتظامیہ کے فیصلہ کا کشمیری طلباء نے خیرمقدم کیا ہے اور گھر واپسی کے اپنے اعلان کو فی الحال ملتوی کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ نے ہمارے جائز مطالبہ کوپورا کر دیا ہے۔ اب ضلع انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ کے فیصلہ کی روشنی میں وہ بھی طلباءسے ملک مخالف سرگرمیوں کا مقدمہ واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضلع انتظامیہ ایسا نہیں کرتی ہے تو وہ دوبارہ سے کشمیر واپس جانے کا اعلان کریں گے۔ کل طلبہ نے زبردست خاموش احتجاج درج کرایا تھا جس کے بعد ہی معطلی کو منسوخ کیا گیا۔ مبینہ کشمیری دہشت گرد منان وانی کی سیکورٹی فورسیز کے ساتھ تصادم میں ہوئی موت کے بعد اے ایم یو کیمپس میں پیدا ہوا تنازعہ اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب دو کشمیری طلباءپر ملک مخالف مقدمہ قائم ہوا اورپھر نتیجتاً یونیورسٹی میں پڑھنے والے کشمیری طلباء نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ڈگریاں واپس کرکے کشمیر لوٹنے کا اعلان کردیا تھا۔ کشمیری طلباء کے اس اعلان سے یونیورسٹی سمیت سیاسی حلقوں میں بھی چہ می گوئیاں ہونے لگی تھیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے بنائی گئی سہ رکنی ٹیم نے کل مذکورہ طلباء کو بے قصور تصور کیا اوران کی معطلی کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ وہیں، کشمیری طلباء اسے اپنی کامیابی تصورکر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے ایم یو ہمارا اپنا ادارہ ہے۔ یہاں سے کوئی جانا نہیں چاہتا تھا لیکن حالات ایسے بنا دئیے گئے جس کے سبب یہ سخت فیصلہ لینا پڑ رہا تھا۔ اب انھیں بھی اُمید ہے کہ ضلع انتظامیہ ان کے مطالبہ کو مانے گی۔