جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں یوم جمہوریہ کی تقریب؛ عبدالحمید دامودی کے ہاتھوں ہوئی پرچم کشائی
01:18PM Fri 26 Jan, 2018
بھٹکلیس نیوز / 26 جنوری، 18
بھٹکل / (بھٹکلیس نیوز بیورو) جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ جامعہ آباد بھٹکل میں آج صبح یوم جمہوریہ کے موقع پر پرچم کشائی کی گئی، جس میں ذمہ داران جامعہ، اساتذہ و طلبہ نے شرکت کی۔
اس دوران استاد جامعہ جناب ماسٹر سیف اللہ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی بے شمار قربانی کے بعد جب ھندوستان آزاد ہوا تو ملک کے رہنماؤں کو اس ملک کے دستور کی ضرورت محسوس ہونے لگی جس کے بعد ڈاکٹر بابا امبیڈکر کی سرپرستی میں سات سو سے زائد لوگوں پر مشتمل ایک دستور ساز کمیٹی تشکیل دی گئی، اس کمیٹی نے ھندوستان کو ایک دستور دیا وہ 26 جنوری 1950 کو عمل میں لایا گیا، یہی جمہوریہ کہلایا گیا جس کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ترنگا لہرایا جاتاہے۔
استاد محترم نے اس موقع پر دستور ہند کی خصوصیات و امتیازات پر گفتگو کرتے ہوئے جمہوریت کی سب سے بڑی خصوصیت عدلیہ کو قرار دیا اور اس افسوس بھی جتایا کہ خود قانون کی حفاظت کی قسم کھانے والے ہی اس دستور کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔
مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب ندوی نے ایسی تقاریب کو ایک عہد نامہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ عوام کو گواہ بناکر عہد لیا جاتا ہے کہ ہم دستور کی رعایت کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا تعاون پیش کریں گے، خاص بات یہ فرمائی کہ ہمیں اپنے دین و مذہب پر قائم رہنے کے جو بنیادی حقوق دیے گیے ہیں اس پر خود بھی جمیں اور رسول کے داعی ہونے کے ناطے حق بات دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھائیں۔
انہوں نے موجودہ ماحول میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی بے انصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کے مسلمانوں اور ایک بڑی اقلیت کے تعلق سے یہ تصور دیا جارہا ہے کہ وہ وطن دشمن ہیں اور وطن کی تخریب کاری میں لگے ہیں۔ مولانا محترم نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اورکہا کہ یہ حقیقت میں ہندوستان کے دستور کی خلاف ورزی ہے، ایسے تخریب کار لوگوں سے ہمیں محبت ،سکون و ہمدردی کے ساتھ مل کر ان کی غلط فہمی دور کرنی چاہیے اور دستور کے حقوق کے مطابق ان تک صحیح بات پہنچانی چاہیے۔
تقریب کا آغاز عمیر گولٹے کی تلاوت سے ہوا اور پرچم کشائی کے موقع پر نصیر طاہر باپو، عبداللہ برماوراور خضر حاجی فقیہ نے ترانہ ہند پڑھا، تقریب کا اختتام جناب خلیل الرحمن صاحب منیری کی دعا پر ہوا۔
استاد محترم نے اس موقع پر دستور ہند کی خصوصیات و امتیازات پر گفتگو کرتے ہوئے جمہوریت کی سب سے بڑی خصوصیت عدلیہ کو قرار دیا اور اس افسوس بھی جتایا کہ خود قانون کی حفاظت کی قسم کھانے والے ہی اس دستور کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔
مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب ندوی نے ایسی تقاریب کو ایک عہد نامہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ عوام کو گواہ بناکر عہد لیا جاتا ہے کہ ہم دستور کی رعایت کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا تعاون پیش کریں گے، خاص بات یہ فرمائی کہ ہمیں اپنے دین و مذہب پر قائم رہنے کے جو بنیادی حقوق دیے گیے ہیں اس پر خود بھی جمیں اور رسول کے داعی ہونے کے ناطے حق بات دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھائیں۔
انہوں نے موجودہ ماحول میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی بے انصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کے مسلمانوں اور ایک بڑی اقلیت کے تعلق سے یہ تصور دیا جارہا ہے کہ وہ وطن دشمن ہیں اور وطن کی تخریب کاری میں لگے ہیں۔ مولانا محترم نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اورکہا کہ یہ حقیقت میں ہندوستان کے دستور کی خلاف ورزی ہے، ایسے تخریب کار لوگوں سے ہمیں محبت ،سکون و ہمدردی کے ساتھ مل کر ان کی غلط فہمی دور کرنی چاہیے اور دستور کے حقوق کے مطابق ان تک صحیح بات پہنچانی چاہیے۔
تقریب کا آغاز عمیر گولٹے کی تلاوت سے ہوا اور پرچم کشائی کے موقع پر نصیر طاہر باپو، عبداللہ برماوراور خضر حاجی فقیہ نے ترانہ ہند پڑھا، تقریب کا اختتام جناب خلیل الرحمن صاحب منیری کی دعا پر ہوا۔