کانگریس پارٹی کا صدر مسلمان کو بنایا جائے

03:19PM Mon 8 May, 2017

بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)محمد یاسین بابا مدیر ’’ آج کا سامنا‘‘ اور ریاستی صدر ٹیپو سیکولر سینا نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں جب بھی پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے صدر جانے کی بات آتی ہے تو مختلف طبقات کے لیڈر حرکت میں آجاتے ہیں اور میڈیا میں بھی چرچے ہوتے ہیں کہ کرناٹک میں کلیگا فرقہ کی آبادی اتنی ہے اور اس فرقہ کے فلاں فلاں لیڈر اپنے فرقہ میں اثر رکھتے ہیں اسی طرح لنگات فرقہ والے بھی آواز اٹھاتے ہیں،شیڈول کاسٹ والے بھی آواز اٹھاتے ہیں بدقسمتی سے مسلم اقلیت کا کوئی بھی ذکر نہیں کرتے جب کہ کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 20 فیصد ہے اور مسلمانوں میں بھی اچھے قابل لیڈر موجود ہیں۔ کانگریس پارٹی کا کوئی بھی لیڈر مسلمانوں کا نام نہیں لیتا۔ المیہ یہ کہ خود مسلمان لیڈر بھی اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے، پتہ نہیں وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں یا نہیں یا تو احساس کمتری کی وجہ ایسا کرتے ہوں گے۔ جب کہ کئی مسلم لیڈروں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی قیادت سنبھالی ہے۔ جن میں مولانا ابو الکلام آزاد ، مولانا محمد علی، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر یم.اے. انصاری، نواب سید محمد بہادر، رحمت اللہ سیانی، بدر الدین طیب جی وغیرہ شامل ہیں۔ کانگریس پارٹی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی بھی الیکشن میں مسلمانوں کی اکثریت کانگریس کو ووٹ دیتی ہے اور مسلمانوں کی بدولت کانگریس کی حکومتیں بنتی ہیں۔ اب دوبارہ کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کے عہدے کے لئے کئی نام پیش ہورہے ہیں اور ذات برادری کے نام پر لیڈروں کے نام تجویز کئے جارہے ہیں۔ہمیشہ کی طرح کوئی بھی مسلمان کا نام نہیں لیتا اور خود مسلمان لیڈر بھی خاموش ہیں۔ پچھلے 75 سالوں سے کوئی مسلم نمائندہ کرناٹک میں کانگریس پارٹی کا صدر نہیں بنا، صرف مسلمان کو ووٹ بینک کا استعمال کرتے آرہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اس مرتبہ کسی مسلمان کو کانگریس پارٹی کا صدر بنایا جائے اور اس کے لئے مسلمانوں کی طرف سے آواز اٹھائی جانی چاہئے۔