جے پی رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے کے بیانات جھوٹ کا پلندہ ۔ ایس ڈی پی آئی 

04:00PM Thu 20 Jul, 2017

شوبھا کو رکن پارلیمان کے عہدے سے معطل کیا جائے اور انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نااہل قراردیا جائے ۔ عبد الحنان  بنگلور : (بھٹکلیس نیوز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر عبدا لحنان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے ایک غیر ذمہ دار اور جھوٹ کی بنیاد پر سیاست کرنے والی رکن پارلیمان بتا یا ہے ۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کرناٹک کا ساحلی علاقہ منگلور گزشتہ کئی برسوں سے فرقہ واریت ، فسادات اور غارتگری سے متاثر ہے۔ منگلور ضلع میں آئے دن جو فسادات ہورہے ہیں اس سے عوام میں بہت زیادہ بے چینی اور علاقے میں بدامنی پیدا ہوئی ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی تنظیمیں، محکمہ پولیس، ریاستی حکومت یہاں کے ماحول کو پرامن بنانے کی حتی الامکان کوشش کررہی ہیں۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے لیڈران اور کیڈرس بھی پولیس اور سرکار کی اس کوشش میں مدد کررہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سستی شہرت اور گندی سیاست کرتے ہوئے بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا نے چند ہندو کارکنوں کے موت کا سہار ا لیکر راج ناتھ سنگھ کو لکھے گئے مکتوب میں 23افراد کے نام کا ذکر کیاہے اور ان تمام کی موت اور قتل کا الزام کانگریس ، SDPI اور دیگر تنظیموں پر تھوپ کر زعفرانی قیادت کی اعلی منصب حاصل کرنے کی گندی کوشش کررہی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 23ناموں کی فہرست میں شامل پہلا نام اشوک پجاری کا ہے جو 20ستمبر 2015کو مودبیدرے میں دشمنوں کے ہاتھوں زخمی ہوااور ایک مہینے کے علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوکر اپنے کاروبار میں مشغول ہے لیکن بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا نے راج ناتھ سنگھ کو لکھے گئے مکتوب میں اس زندہ شخص کو مردہ قراردیا ہے۔ اسی طرح اس فہرست میں درج ایک اور نام وامن پجاری کا ہے جو گزشتہ 15اکتوبر 2015 کواپنی بیٹی کے گھر میں موجود ایک شیڈ میں ہی خودکشی کرکے مردہ پایا گیا تھا اور پولیس نے اس معاملے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کردی ہے مگر شوبھا نے وامن پجاری کی خودکشی سے ہوئی موت کو فرقہ وارانہ فساد میں ہلاک ہوا مہلوک قرار دیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ کی بنیاد پر سیاست کرنے والی غیر ذمہ دار اور جانبدار رکن پارلیمان ہیں۔ اسی طرح 10نومبر ٹیپو جینتی تقریب کے موقع پر کئے گئے گڑبڑ کے دوران اسپتال کی چھت سے پھسل کر گرنے سے ہلاک ہوئے راجو کو بھی قتل کے زمرے میں شامل کرکے اپنے مکتوب کی فہرست میں راجو کا نام بھی شامل کرلیا ہے جبکہ پولیس کی درج کردہ رپورٹ کے مطابق یہ ایک حادثاتی موت ہے۔ اسی طرح کٹپپا جو ٹیپو جینتی کے موقع پر مرکیرہ میں ہوئے پتھراؤ حادثہ سے بچنے کے لیے ایک عمارت پر چڑھنے کی کوشش کے دوران پیر پھسل کر فوت ہوا تھااس حادثاتی موت کو بھی قتل کی فہرست میں شامل کرکے بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا نے اپنے مکتوب میں راج ناتھ سنگھ کو غلط اطلاع دی ہے۔ کارتک راج جس کو 22اکتوبر 2016کو قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد نلنی کمار کٹیل اور یڈیورپا نے اعلان کیا تھا کہ کارتک کے قاتلوں کو اگر گرفتار نہیں کیا گیا تو پورے ضلع میں آگ لگادی جائے گی لیکن پولیس تحقیقات میں اس بات کا پتہ چلا کہ کارتک کے قتل کے پیچھے اس کے بہن کا ہاتھ تھا اور وہی اس قتل کی ماسٹر مائنڈ تھی۔ شیموگہ کے وینکٹیش قتل معاملے میں بھی اس کے گھر والوں کا ہاتھ ہونے کی پولیس رپورٹ موجود ہے۔ گؤ رکشک کے آڑ میں پروین پجاری کو 17اپریل 2016کو خود آر ایس ایس والوں نے قتل کیا تھامگر اس قتل کو اپنی فہرست میں شامل نہ کرکے رکن پارلیمان شوبھا نے اپنی اصلی چہرے کو اجاگر کیا ہے۔ بنٹوال کے آر ایس ایس کارکن ہریش پجاری کو بھی خود آرایس ایس والوں نے ہی قتل کیا تھا اور اس قتل کا ذکر بھی شوبھا کی فہرست سے غائب ہے۔ رکن پارلیمان شوبھا جواڈپی ، چکبالاپور سے نمائندگی کرتی ہیں ہمیشہ سے اپنی اشتعال انگیز تقاریر سے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ شرت مڈیوالا کے قتل کے بعد سے شوبھا اپنے آپے سے باہر ہوگئی ہیں اور انہوں نے 23قتل کی فہرست بنا کر مکتوب کی شکل میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو روانہ کیا ہے وہ جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا اپنی گندی سیاسی مفادات کے لیے حادثے سے ہونے والے اموات اور آرایس ایس کے ذریعے کئے گئے قتل معاملات کو بھی فرقہ وارانہ شکل دینے کی کوشش کررہی ہیں۔ یہاں تک کے اشوک کمار نامی شخص جو زندہ ہے اسے بھی راج ناتھ سنگھ کو بھیجے گئے فہرست میں پہلے نمبر پر اس نام درج کرکے اس مردہ قرار دیا گیا ہے۔ جس سے بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا کی پول کھل چکی ہے۔ لہذا ایس ڈی پی آئی الیکشن کمیشن سے درخواست کرتی ہے کہ شوبھا کو فوری طور پر رکن پارلیمان کے عہدے سے معطل کیا جائے اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرارد یا جائے کیونکہ بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا اپنی سیاسی اثر و رسوخ اور عہدے کا غلط استعمال کرکے مسلسل طور پر عوام، حکومت اور میڈیا کے سامنے غلط بیانی کرکے فسادات اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔