حکومت آر ایس ایس کا ’ایجنڈا‘ لاگو کرنے پر آمادہ: کانگریس
02:24PM Sun 13 Oct, 2019
ممبئی: وردھا میں واقع مہاتما گاندھی ہندی یونیورسٹی سے 9 اکتوبر کو ایس سی طبقے کے 3 اور او بی سی طبقے کے 3، کل 6 طلبہ کا اخراج کر دیا گیا جس کے خلاف کانگریس پارٹی کے ایک وفد نے ہفتہ کے روز ریاست کے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر کے یونیورسیٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ طلبہ نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ملک میں وقوع پذیر ہونے والے منفی واقعات پر ان کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ جبکہ طلبہ کے اخراج کے حکم میں یونیورسٹی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا ہے۔
اس تعلق سے بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے ملکی سطح پر منووادی نظریات کولاگوکرنے کی آر ایس ایس واس کے نظریات کے حاملین کی جانب سے جاری ہے۔ اس کے لئے قصداً یونیورسٹی کوٹارگیٹ کرکے بہوجن سماج کے طلبہ کونشانہ بنایاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے روہت ویمولا کا معاملہ ہو، چاہے آئی آئی ٹی مدراس کا واقعہ ہو، چاہے دہلی یونیورسٹی کامعاملہ ہو یا پھر چاہے جواہر لال یونیورسٹی کا معاملہ ہو، ان سب کے پسِ پشت ایک ہی نظریہ کارفرما ہے اوراس کامقصد بہوجن سماج کے طلبہ کی آوازوں کوخاموش کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وردھا میں مہاتماگاندھی ہندی یونیورسٹی کے طلبہ کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، مختلف نظریات کے طلبہ کانشی رام کی یومِ پیدائش کے موقع پر وزیراعظم نریندرمودی کوخط لکھ کر ملک میں وقوع پذیر ہونے والے جرائم ومنفی واقعات پر ان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔
سچن ساونت نے کہا کہ اس سے قبل ملک کے 49دانشوروں وفنکاروں نے نریندرمودی کو خط لکھ کر موب لنچنگ وغیرہ جیسے منفی واقعات پر اپنا غصہ ظاہر کیا تھا،جس پر ان کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چاہے ان دانشوران پر ملک سے غداری کا مقدمہ ہو، چاہے چنمیانند وکلدیپ سنگھ سینگر کا عورتوں کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ ہو، چاہے کشمیر میں گزشتہ دوماہ سے ابلاغ وترسیل پر پابندی کا معاملہ ہو یا پھر موب لنچنگ جیسے واقعات ہوں، ان کے خلاف اجتماعی طور پر کئی طلبہ وزیراعظم نریندرمودی کو خط لکھے ہیں۔ لیکن یونیورسٹی کی انتظامیہ کو یہ پسند نہیں آیا اور انہوں نے حکومت کی مرضی کو فوقیت دیتے ہوئے 6 طلبہ کو ان کے سماجی بیک گراونڈ کو دیکھتے ہوئے ان پر اخراج کی کارروائی کی جو قابل مذمت ہے۔ ہم نے اس اخراج کے خلاف ریاست کے الیکشن کمشنر سے ملاقات کی ہے اور یونیوسٹی انتظامیہ کی اس غیرقانونی وغیراخلاقی حرکت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔