واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی قدیم بینچ میں جسٹس یویوللت کے نام پراعتراض ظاہرکیا گیا تھا۔ سنی وقف بورڈ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئروکیل راجیو دھون نے بنچ میں جسٹس اُودے امیش للت کی موجودگی کے سلسلے میں سوال اٹھائے تھے۔ دھون نے دلیل دی کہ اجودھیا تنازعہ سے ہی متعلق ایک معاملے میں جسٹس للت وکیل کی حیثیت سے سابق وزیراعلی کلیان سنگھ کی جانب سے پیش ہوچکے ہیں، ایسی صورت میں ان کومعاملے کی سماعت سے الگ ہو جانا چاہئے۔ اس کے انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔
اس سے قبل اجودھیا معاملے پرسماعت کےلئے 10 جنوری کی تاریخ طے کی گئی تھی اوران میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس چندرچوڑ، جسٹس بوبڑے اورجسٹس للت اورجسٹس این وی رمنا کے نام شامل تھے۔
اجودھیا معاملہ: پھرملتوی ہوئی سپریم کورٹ میں سماعت، جلد ہوگا نئی تاریخ کا اعلان
03:15PM Sun 27 Jan, 2019
اجودھیا معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں ایک بارپھرملتوی ہوگئی ہے۔ ایسا اس لئے ہوا ہے کیونکہ اس تاریخ کو جسٹس ایس اے بوبڑے موجود نہیں رہیں گے۔ آئندہ سماعت کب اور کس تاریخ کو ہوگی اس کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔ پہلے یہ سماعت منگل یعنی 29 جنوری کو ہونی تھی۔ اسی ماہ یہ دوسری مرتبہ ہے جب اجودھیا معاملے کی سماعت ملتوی ہوئی ہے۔ جسٹس یویوللت کے بینچ سے ہٹنے کے بعد سماعت 10 جنوری سے بڑھا دی گئی تھی۔
اس سے قبل چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے پانچ ججوں کی نئی آئینی بینچ بنائی تھی۔ اس میں جسٹس اشوک بھوشن اورجسٹس عبدالنظیرکوشامل کیا گیا تھا۔ نئی بینچ میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس ایس بوبڑے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اورجسٹس ایس عبدالنظیرشامل ہیں۔ معاملے کی آئندہ سماعت 29 جنوری کوہونی تھی۔