اسمبلی کے سرمائی سیشن سے قبل کابینہ میں توسیع ہوگی راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد مہورت نکالا جائے گا: سدارامیا
12:11PM Mon 19 Nov, 2018
بنگلورو۔19نومبر( سالار نیوز) ریاستی مخلوط حکومت کی کو آر ڈی نیشن کمیٹی کے چیرمین و سابق وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج بتایا کہ ریاستی کابینہ کی توسیع بہت جلد کی جائے گی۔کابینہ میں توسیع کرنا ہی ہے اس کیلئے ہم جلد سے جلدیہ کام کریں گے ۔ ہبلی میں اخباری نمائندوں کے روبرو مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جاری اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی ریاستی قیادت بہت جلد کانگریس صدر راہل گاندھی سے وقت طلب کرکے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت والی مخلوط حکومت کی کابینہ میں توسیع کے بارے میں بات کرے گی ۔ اس ضمن میں ریاست میں پارٹی سرگرمیوں کے نگران کار کے سی وینو گوپال کے ساتھ بات چیت کی جاچکی ہے ۔ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے لئے پارٹی صدر راہل گاندھی انتخابی مہم میں مصروف ہیں ۔اس لئے کابینہ میں توسیع کے متعلق ان سے بات نہیں ہوپائی ہے۔ کانگریس ،جتنا دل ( سکیولر) کی مخلوط حکومت میں کانگریس کے مزید 6وزارت کے عہدوں کو بھرتی کرنے کا موقع ہے ۔ وزارت حاصل کرنے کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔ چند اراکین اسمبلی وزارت حاصل کرنے کیلئے اپنے گارڈ فادروں کے ذریعہ پارٹی پر دباؤ ڈالنے لگے ہیں ۔ وزارت نہ ملنے کی صورت میں پارٹی کو خیرباد کہنے کی اطلاع بھی ہے ۔اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کے ضمنی انتخابات کی وجہ سے ریاستی کابینہ میں توسیع نہیں ہوپائی تھی ۔ اب توسیع کیلئے کانگریس اور جنتادل( سکیولر) دونوں پارٹیوں کے اہم لیڈران اپنی دلچسپی دکھاتے ہوئے اس سلسلہ میں بات چیت بھی کرچکے ہیں۔ بلگاوی سیشن سے قبل ہی ریاستی کابینہ میں توسیع کرنے پر مخلوط حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اسی مقصد سے سدارامیا ہبلی پہنچ کر اہم لیڈران سے بات کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے ۔اگلے ہفتہ کو آر ڈی نیشن کمیٹی کااجلاس ہونے والا ہے ۔ جس میں کابینہ میں توسیع کا قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔ سدارامیا نے کہا کہ نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی میں وزیراعلیٰ بننے کے کئی خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی نہیں ہے اورنہ ہی تبدیلی کی جائے گی ۔ سدارامیا نے کہا کہ سی بی آئی ادارے کا مرکزی حکومت غلط استعمال کرنے لگی ہے ۔ ریاستی حکومت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی سی بی آئی کوکوئی بھی معاملہ سونپنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ اندرا کینٹین کے ذریعہ حکومت کا نام روشن ہونے لگا ہے ۔ جس سے پریشان ہوکر بی جے پی نت نئے حربے استعمال کرنے لگی ہے ۔ یہ ٹھیک بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غربا ء کی بھلائی کیلئے اندرا کینٹین قائم کی گئی ہے ۔ گنا کاشتکاروں کے مسائل کے متعلق پوچھے گئے سوال پر سدارامیا نے کہا کہ 20نومبرکو اس سلسلہ میں وزیراعلیٰ نے اجلاس طلب کیا ہے ۔ بلگاوی کے بجائے بنگلورو ہی میں اجلاس ہونے کی اطلاع ہے ۔ سدرامیا نے مرکز کی بی جے پی کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہٹلر جیسا انتظامیہ چلا رہی ہے۔ بی جے پی لیڈران ہٹلر کنبے سے تعلق رکھتے ہوں گے ۔