سعودی عرب اور امریکا کادوطرفہ سمجھوتوں کے بارے میں مشترکہ بیان
01:36AM Tue 23 May, 2017
العربیہ ڈاٹ نیٹ
سعودی عرب اور امریکا نے الریاض میں دو روزہ سربراہ اجلاسوں کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے اور اس میں خطے میں ایرانی اثر ورسوخ کے خطرے سے مشترکہ طور پر نمٹنے پر زوردیا گیا ہے۔
بیان میں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر طے شدہ سمجھوتوں کو اکیسویں صدی میں نئی تزویراتی شراکت داری کی جانب ایک راہ قرار دیا گیا ہے۔
اس مشترکہ بیان کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے رقوم پر پابندی اور ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی پر قابو پانے کے لیے نئے اقدامات پر کام کیا جائے گا۔
۲۔ دفاعی تعاون مضبوط بنانے اور مشرق وسطیٰ میں خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
۳۔ علاقائی سطح پر ایک متحدہ اور مضبوط سلامتی کا ڈھانچا وضع کیا جائے گا۔
۴۔سعودی عرب کی دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے کوششوں کا اعتراف۔
۵۔داعش مخالف اسلامی اتحاد اور بین الاقوامی اتحاد کے درمیان تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا۔
۶۔ایران کی خطے میں فرقہ واریت کو شہ دینے اور مداخلت کی کارروائیوں پر قابو پانے کی ضرورت پر زور ۔
۷۔ایران کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت سے خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔
۸۔ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے طے شدہ معاہدے کی بعض شرائط پر نظرثانی کی ضرورت سے متعلق سمجھوتا۔
۹۔یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کیا جائے گا۔
۱۰۔شام کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر امریکا کے حملے کی حمایت کا اظہار۔
۱۱۔لبنانی ریاست کی اپنی خود مختاری کے نفاذ اور دہشت گرد گروپ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے کوششوں کی حمایت ۔
۱۲۔عراق کے داخلی امور میں ایرانی مداخلت کو روکنے کے لیے کام کی اہمیت پر زور۔
ان سمجھوتوں کے علاوہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شعبے میں دو طرفہ تعاون سے متعلق اربوں ڈالرز مالیت کے معاہدے طے پائے ہیں۔