سعودی عرب اور امریکا نے الریاض میں دو روزہ سربراہ اجلاسوں کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے اور اس میں خطے میں ایرانی اثر ورسوخ کے خطرے سے مشترکہ طور پر نمٹنے پر زوردیا گیا ہے۔ بیان میں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر طے شدہ سمجھوتوں کو اکیسویں صدی میں نئی تزویراتی شراکت داری کی جانب ایک راہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مشترکہ بیان کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں: ۱۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے رقوم پر پابندی اور ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی پر قابو پانے کے لیے نئے اقدامات پر کام کیا جائے گا۔ ۲۔ دفاعی تعاون مضبوط بنانے اور مشرق وسطیٰ میں خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ۳۔ علاقائی سطح پر ایک متحدہ اور مضبوط سلامتی کا ڈھانچا وضع کیا جائے گا۔ ۴۔سعودی عرب کی دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے کوششوں کا اعتراف۔ ۵۔داعش مخالف اسلامی اتحاد اور بین الاقوامی اتحاد کے درمیان تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا۔ ۶۔ایران کی خطے میں فرقہ واریت کو شہ دینے اور مداخلت کی کارروائیوں پر قابو پانے کی ضرورت پر زور ۔ ۷۔ایران کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت سے خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ ۸۔ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے طے شدہ معاہدے کی بعض شرائط پر نظرثانی کی ضرورت سے متعلق سمجھوتا۔ ۹۔یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کیا جائے گا۔ ۱۰۔شام کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر امریکا کے حملے کی حمایت کا اظہار۔ ۱۱۔لبنانی ریاست کی اپنی خود مختاری کے نفاذ اور دہشت گرد گروپ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے کوششوں کی حمایت ۔ ۱۲۔عراق کے داخلی امور میں ایرانی مداخلت کو روکنے کے لیے کام کی اہمیت پر زور۔ ان سمجھوتوں کے علاوہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شعبے میں دو طرفہ تعاون سے متعلق اربوں ڈالرز مالیت کے معاہدے طے پائے ہیں۔