مسلم ووٹ حاصل ہونے کے دعوی کی پول کھولتی بی جے پی کے مسلم امیدواروں کی شکست

05:53PM Thu 27 Apr, 2017

مسلم ووٹوں کے بکھراؤ کو روکنے کے لیے مئی میں گورکھپور اور جولائی میں دہلی میں ایک بڑا پروگرام کرنے کا فیصلہ نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز) دہلی ایم سی ڈی الیکشن میں بی جے پی کی جیت پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل نے کہا کہ حالیہ پانچ ریاستوں کے نتائج سے یہ ثابت ہو گیا تھا کہ اترپردیش اور اتراکھنڈ میں سیکولر فورسیز کے انتشار اور مسلم ووٹوں کی تقسیم کے سبب بی جے پی کامیاب ہوئی تھی جبکہ گوا اور منی پور میں گورنر نے آئینی روایت کے برخلاف بی جے پی کو حکومت بنانے میں معاونت کی تھی۔ اس تقسیم سے سیکولر فورسیز حتی کہ مسلم سیاسی پارٹیوں جن کے امیدواروں کو ووٹ تو برائے نام ملے لیکن اتحاد کے نام پر وہ روکاوٹ ضرور بنے نیز مسلمانوں نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور ایک بار پھر ایم سی ڈی پر بی جے پی کا قبضہ ہو گیا۔ملی کونسل جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا کہ 8؍ اپریل کو ملی کونسل کی مجلس عاملہ میں بھی اس بات پر غور وخوض کیا گیا اور یہ بات کھل کر سامنے آئی تھی کہ مسلم حلقہ انتخاب میں سیکولر پارٹیاں مسلم امیدواروں کو کھڑا کر دیتی ہیں جس سے مسلم ووٹ بکھر جاتا ہے۔ لہٰذا اس کو روکنے کی حکمت عملی پر غور وخوض کے لیے ملی کونسل نے مئی میں اترپردیش کے شہر گورکھپور اور جولائی میں دہلی میں ایک بڑا پروگرام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ تمام ایشوز پر کھل کر گفتگو ہو اور مسلم ووٹوں کو بکھراؤ سے روکنے کے واسطے ایک ٹھوس حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ڈاکٹر عالم نے دہلی ایم سی ڈی الیکشن میں بی جے پی کے پانچ مسلم امیدواروں میں سے چار کی ضمانت ضبط ہونے کو بی جے پی کو مسلم ووٹ حاصل ہونے کے دعویٰ کی پول کھولتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے اترپردیش میں اپنی کامیابی کے بعد بڑی زور وشور سے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ اسے مسلم خواتین اور مسلم نوجوانوں نے بڑی تعداد میں ووٹ دیا۔ دہلی ایم سی ڈی الیکشن میں بی جے پی کے مسلم امیدواروں کی شکست سے صاف ہے کہ ایسا بی جے پی صرف مسلمانوں کو کنفیوز کرنے کے لیے کہہ رہی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔