ذاکر نائیک کے آئی آر ایف پر پابندی کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں طلبہ کا احتجاجی مارچ
01:10PM Sat 3 Dec, 2016
معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک کے ممبئی میں واقع اسلامک ریسرچ فاونڈیشن پر مودی حکومت کی عائد کردہ پانچ سالہ پابندی کے خلاف کل جمعہ کی نماز کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے طلبہ نے احتجاجی مارچ نکالا۔ طلبہ نے پابندی کو غلط بتاتے ہوئے اسے مودی حکومت سے واپس لینے کی اپیل کی۔ مارچ میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔
طلبہ جمعہ کی نماز کے بعد مولانا آزاد لائبریری کے سامنے اکھٹا ہوئے ۔ یہاں سے آل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بینر کے تحت وہ باب سید پہنچے۔ ایک طالب علم نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش دہشت گردانہ حملہ میں ملوث ایک ملزم کے محض اس بیان کو بنیاد بنا کر کہ وہ ذاکر نائک کی تقریروں سے متاثر ہے، ان کے خلاف پابندی عائد کر دی گئی۔ طالب علم نے کہا کہ مودی حکومت میں مسلمانوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔
اس موقع پرطلباء اپنے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈ لئے ہوئے تھے جس میں ڈاکٹر ذاکر نائک کے اداروں پر پابندی سمیت کئی اور سنگین مسائل پر نعرے درج تھے۔
وہ نعرے یہ تھے: اندھا قانون کس کے لیے‘، کیا میں نیا دلت ہوں،اندھے قانون کاخوف، میں فیصل ہوں کیا آپ میرے ساتھ کھڑے ہیں،نجیب کہاں ہے؟ میں ذاکرنائک ہوں مجھے انصاف چاہیے ،آئی آرایف پرپابندی غیرقانونی اورغیرآئینی ہے، وغیرہ۔
طلبہ نے اپنی تقریروں میں کہا کہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی سالمیت کوفاشسٹ قوتوں سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ آج دلتوں کوماراجاتا ہے ،روہت ویمولا کوماردیا جاتا ہے، کبھی صرف بیف ہونے کی شک کی بنیاد پرمحمد اخلاق کو موت کے گھاٹ اتاردیا جاتاہے،توکبھی مسلم جوڑوں کوزندگی سے محروم کردیاجاتا ہے۔