مرکزی حکومت پندرہ دن میں رئیل ایسٹیٹ قانون لاگو کرے گی
02:01PM Wed 3 May, 2017
شہری ترقیات ، ہاؤزنگ اور بلدی منصوبوں کیلئے فنڈز فراہم : وینکیا نائیڈو
بنگلورو۔(بھٹکلیس نیوز)مرکزی حکومت کا مجوزہ رئیل ایسٹیٹ قانون اگلے پندرہ دنوں کے اندر لاگو کردیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں یہ قانون کرناٹک سے لاگو کیاجائے گا۔ یہ اعلان آج مرکزی وزیر برائے شہری ترقیات وینکیا نائیڈو نے کیا۔ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ رئیل ایسٹیٹ قانون نافذ ہوجانے سے رئیل ایسٹیٹ کی خرید وفروخت کرنے والوں کو کسی بھی طرح کی دشواری لاحق نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ رئیل ایسٹیٹ کے شعبے میں شفافیت لانے کے واحد مقصد سے یہ قانون لاگو کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ شہر بنگلور میں زمینوں کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن اور بنگلور کی رئیل ایسٹیٹ قیمتوں میں اب کوئی فرق نہیں رہاہے۔ اسی مقصد کے تحت رئیل ایسٹیٹ کی تجارت پر نگرانی اور خرید وفروخت کرنے والوں کو تحفظات فراہم کرنے کے مقصد سے یہ قانون لاگو کیاجارہاہے۔ اس مرحلے میں وزیر موصوف نے ریاست کے محکمۂ شہری ترقیات ، محکمۂ ہاؤزنگ اور بلدی انتظامیہ کو بہتر بنانے کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی 677 کروڑ روپیوں کی رقم پر مشتمل چیک وزیر شہری ترقیات و حج جناب روشن بیگ ، وزیر ہاؤزنگ ایم کرشنپا ، وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج اور وزیر بلدی انتظامیہ ایشور کھنڈرے کو پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے شہری علاقوں کو ترقی دینے کے مقصد سے شروع کئے گئے اسمارٹ سٹی ، امرت یوجنا ، سوچ بھارت ابھیان سمیت مختلف منصوبوں کیلئے اس رقم کو استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں اس رقم سے ٹمکور، داوگیرے ، بلگام اور شیموگہ میں سوچھ بھارت ابھیان کے تحت پینے کے پانی ، بیت الخلاء کی تعمیر، ڈرینج نظام اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کرانے کیلئے اس رقم کا استعمال کیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں ان تمام منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومت کے افسران کو یہ سخت ہدایت دی گئی ہے کہ وقتاً فوقتاً ان پراجکٹوں کا جائزہ لیتے رہیں۔ انہوں نے کرناٹک سے ہاؤزنگ اسکیموں کیلئے کافی زیادہ مانگ کو دیکھتے ہوئے افزود گرانٹ فراہم کرنے کی مانگ پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے بتایاکہ فی الوقت مرکزی حکومت تمام ریاستوں کو اس سلسلے میں یکساں فنڈز جاری کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستوں کی ترقی کے معاملے میں سیاسی امتیازات سے بالا تر ہوکر حکومتوں کو کام کرنا چاہئے۔وفاقی نظام کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومت کا امتیاز کئے بغیر منتخب نمائندوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت منتخب شہروں کی فہرست کل منظر عام پر لائی جائے گی۔ ملک بھر میں 18؍لاکھ افراد کے سروے کی بنیاد پر یہ فہرست تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیت الخلاء کی سہولت ، پینے کے پانی کی فراہمی ،عوام کو دی جانے والی بنیادی سہولیات بجلی، ڈرینج اور دیگر بلدی سہولتوں کو خاطر میں رکھ کر یہ فہرست ترتیب دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک کے تین شہر بیت الخلاء کی سہولت سے مکمل طور پر لیس ہوچکے ہیں، ان شہروں میں لوگوں کو اپنی ضروریات سے فراغت کیلئے باہر کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔