بھٹکل کے داماد تمل ناڈو میں کر رہے ہیں مجبوروں کی بے لوث طبی خدمات؛ قومی میڈیا پر مل رہی ہے خوب پذیرائی
04:06PM Mon 4 May, 2020
بھٹکل: 4 مئی،20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) ایک ایسے شخص جو ڈاکٹر بننا چاہتے تھے لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے ڈاکٹر نہیں بن پائے، انہوں نے دو اسپتال تعمیر کیے جس کو انہوں چیرٹیبل فنڈ میں دے دیا۔ ان کی طبی خدمات کو دیکھتے ہوئے تمل ناڈو کی ایک یونیورسٹی نے 2016 میں انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا۔ آج وہ کورونا سے متاثر اس دور میں ہزاروں غریبوں اور مجبوروں کے گھر پہنچ کر مفت میں ان کا علاج کر رہے ہیں اور ان میں مفت دواؤں کی تقسیم کر رہے ہیں۔ جس کی قومی سطح کے میڈیا پر خوب پذیرائی ہو رہی ہے۔
جی ہاں یہ ہیں بھٹکل کے جناب صدیقہ بوٹا شبر صاحب (بف شبر بھاؤ) کے ہم زلف اور بھٹکل کے داماد ڈاکٹر امانت اللہ جن کا جذبہ اس عمر میں بھی دیکھتے بنتا ہے۔ حلانکہ وہ اس وقت تمل ناڈو میں مقیم ہیں لیکن کورونا کی اس مہاماری کے دوران وہ تمل ناڈو سے پچاس کلو میٹر دور کرشنا گری گاؤں میں جاکر اپنی ٹیم کے ساتھ پندرہ ہزار مریضوں کا مفت میں علاج معالجہ کر رہے ہیں۔
یہ وہ مریض ہیں جن کو روزانہ دوائیں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یا پھر پیسہ نہ ہونے کی بنا پر علاج نہیں کر پارہے ہیں۔
اتنا ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر امانت اللہ نے اپنے دونوں اسپتال کو کورنٹائن سینٹر بنانے کے لیے بھی وقف کردیا ہے۔
ڈاکٹر امانت اللہ کی یہ ٹیم ایک فون پر گھر میں پہنچ کر علاج معالجہ کا کام انجام دیتی ہے جس میں ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی ہے۔
الغرض ڈاکٹر امانت اللہ کا بھٹکل سے سسرالی تعلق ہونا تمام بھٹکلی افراد کے لیے فخر کی بات ہے۔
ادارہ بھٹکلیس انہیں اس کام پر مبارکباد دیتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور طاقت عطا فرمائے، ان کی کمائی میں مزید ترقی دے انہیں یونہی ملک و ملت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین