کیمسن گنڈی میں عدم بنیادی سہولیات

03:03PM Tue 5 Sep, 2017

محکمۂ سیاحت اس سیاحتی مرکز کو قبضہ میں لینے کا فیصلہ بنگلور(بھٹکلیس نیوز):۔ محکمۂ سیاحت نے چکمگلور ضلع کے کیمسن گنڈی سیاحتی مرکز کو اپنے قبضہ میں لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ یہ سیاحتی مرکز گذشتہ 70سالوں سے محکمۂ باغبانی کے قبضہ میں ہے۔اس محکمۂ کی جانب سے اس سیاحتی مرکز کی مناسب طریقہ سے نگرانی اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے ۔محکمۂ باغبانی صرف باغات کی ہی دیکھ بھال کرنے کا تجربہ رکھتا ہے یہاں آنے والے سیاحوں نے بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کئی شکایتیں کی ہیں اور اس سیاحتی مرکز کو ہی بند کرنے کی سفارش کی ہے ۔ یہاں ایک ہوٹل 51کمرے ، کسٹ ہاؤس اوردیگر کم کرائے کے کمرے ہیں۔ لیکن یہاں معقول روشنی کا انتظام ، پانی کی سہولت اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی شکایت کی ہے ۔اس مرکز میں کھٹمل ، جھینگر ،بچھو اور دیگر کئی کیڑے ہونے کی بھی شکایت کی ہے اور ان کیڑوں سے خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔یہاں بس اسٹانڈ کی سہولت اور سواریوں کی پارکنگ کی بھی سہولت نہیں ہے۔یہاں پہنچنے کے لئے مناسب سڑکوں کی سہولت بھی نہیں ہے۔یہاں ایک ہوٹل ہے اور صبح 10بجے کھلتا ہے اور شام کو چھ بجے بند ہوجاتا ہے یہاں ہر سال بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں لیکن یہاں کمروں کے لئے زیادہ قیمت اداکرنے کے باوجود کوئی بنیادی سہولیات نہیں ہیں اس لئے ہر کوئی سیاح محکمۂ باغبانی کے خلاف شکایت کرتا ہے۔اس سلسلہ میں وزیر برائے سیاحت پریانک کھرگے نے وزیر برائے باغبانی ایس ایس ملیکارجن سے ملاقات کی ہے اور اس سیاحتی مرکزکو محکمۂ سیاحت کے حوالے کرنے کی گذارش کی ہے اور اس کے لئے ملیکارجن نے حامی بھرلی ہے ۔پہلے یہ مرکز محکمۂ سیاحت کے قبضہ میں ہی تھا اور یہاں باغات اور پہاڑی ڈھلوان ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ محکمۂ باغبانی کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس معاملہ کولیکر بہت جلد ایک اجلاس ہوگا اور دستاویزات کو منتقل کیا جائے گا۔