صدر زرداری کو گارڈ آف آنر، مدتِ صدارت مکمل
05:33PM Sun 8 Sep, 2013
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو اتوار کے روز گارڈ آف آنر دیا گیا جس کے ساتھ ان کی مدت صدرات مکمل ہو گئی اور وہ پہلے صدر ہیں جنہوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے۔
صدر زرداری نے گزشتہ شب ایوان صدر میں اپنے عملے کو الوداعی عشائیہ دیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے عزت و وقار کے ساتھ آئینی مدت کی تکمیل اور عہدے سے سبکدوشی پر مسرت کا اظہار کیا۔
صدر زرداری نے کہا کہ انھوں نے تمام فیصلے ملک کے مفاد میں کیے اور اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے۔ پاکستان کی سرسٹھ سالہ تاریخ میں صدر زرداری وہ پہلے صدر میں جنھوں نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی ہے اور ان کی جگہ ایک منتخب صدر یہ عہدہ سھنبالیں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ نومنتخب صدر ممنون حسین جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے جو کل اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
پاکستان کے ایک نجی اخبار سے بات کرتے ہوئے صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا ہے کہ آج گارڈ آف آنر ملنے کے بعد صدر ایوان صدر سے رخصت ہو کر لاہور میں بلاول ہاؤس پہنچیں گے جہاں پی پی پی کے رہنما ان کا استقبال کریں گے جبکہ ان کا ذاتی سامان پہلے ہی ایوان صدر سے کراچی منتقل کیا جا چکا ہے۔
اس سے پہلے صدر زرداری ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ’میں وزیراعظم بننےکے لیے کوشش نہیں کروں گا، میرے خیال سے پارٹی چلانا وزیراعظم بننے سے زیادہ اہم ہے۔‘
آئینی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف درج اُن مقدمات کا دوبارہ سے کھل جانے کا امکان ہے جن میں صدارتی استثنٰی کی وجہ سے پانچ سال تک کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔
آصف علی زرداری کے عہدۂ صدارت کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔
اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ مئی سنہ دو ہزار گیارہ میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی سے متعلق آصف علی زرداری پہلے سے آگاہ تھے لیکن اُنہوں نے پاکستانی افواج کو اس سے آگاہ نہیں کیا تھا۔
درخواست میں اُن کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی استدعا کی گئی جس پر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے دس ستمبر کو جواب طلب کر رکھا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل اور آصف علی زرداری کے مقدمات کے پیروی کرنے والے وکیل سردار لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری دس سال جیل میں رہے لیکن استغاثہ کسی ایک مقدمے میں بھی اُن کے خلاف کوئی شواہد پیش نہیں کرسکی۔
آصف علی زرداری جب صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے تھے اُس وقت اُن کے خلاف جتنے بھی مقدمات تھے وہ سارے این آر او کے تحت ختم کردیے گئے تھے جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
حکمراں جماعت مسلم لیگ ن اور پی پی پی، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ایک دوسرے کے خلاف اُن مقدمات کو نہیں کھولنا چاہتے جو اُن کے دورِ حکومت میں درج کیے گئے تھے۔ آصف علی زرداری وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروا چکے ہیں۔
BBC URDU