تازہ بارشوں کے بعد مختلف بیماریوں میں اضافہ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی، آلودہ پانی زیادہ مضر صحت
02:38PM Wed 23 Aug, 2017
بنگلو ر،22 ؍اگست:گزشتہ بارش کی قیامت خیزی کے بعد جس نے بنگلور کے شہریوں کو اچانک آپکڑا تھا، اب شہر میں بیماریوں کی بارش ہے۔مسلسل بارشوں کی وجہ سے ، برساتی نالوں میں جو کوڑا کرکٹ بہایا جاتا ہے اس کے ساتھ پانی بھی مل کر شہر کے تقریباً ہر علاقہ میں سڑانڈ پیدا کر رہا ہے ایسے مقامات پر بڑی تعدادمیں مچھر اور بیماریاں پھیلانے والے دیگرجراثیم پرورش پا رہے ہیں۔جرثوموں کے ذریعہ پھیلنے والے امراض اور جلدی امراض کے شکار افراد کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ابتدائی صحت مراکز اور سرکاری اسپتالوں میں عملہ کی قلت بھی درپیش ہے خود یہ مراکز بیمار محسوس ہو رہے ہیں۔وکٹوریا اسپتال کے چیف میڈیکل افسر (سی ایم او)نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ اپنے آؤٹ پیشنٹ شعبہ میں اچانک مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی صورت حال سے نبرد آزما ہیں اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔صرف تین دنوں میں ریاست بھر میں تین سو سے زیادہ ڈینگی کے نئے مریضوں کا اندراج ہوا ہے، اگست کی 13تاریخ تک سرکاری اسپتالوں میں جو ڈینگی کے مریضوں کی تعداد درج تھی وہ 5,128 لیکن ریاست کے اندرونی علاقوں میں جیسے جیسے موسم باراں نے شدت اختیار کی اور 15 اگست کے بعد بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوا، یہ تعداد اچانک 5,361 کو پہنچ گئی ہے، اس میں ان مریضوں کا شمار نہیں جو خانگی اسپتالوں میں علاج کرا لیتے ہیں۔منی پال اسپتال کے انٹرنل میڈیسن شعبہ میں سینئرکنسلٹنٹ ڈاکٹر پنکج سنگھائی کا کہنا ہے کہ’’ابھی شہر میں ڈینگی کے امراض کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ، لیکن نئی بارشوں کے ساتھ شہر میں جلدی امراض میں بھی شدید اضافہ دیکھا گیا ہے، اس کے علاوہ پانی کی آلودگی کی وجہ سے غذائی سمیت کئی معاملات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس سے پہلے کہ جراثیمی بخار، چکن گنیا اور ڈینگی کے شکار مریضوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع ہوتی ہمارے اسپتال میں ٹائفائڈ کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔اسٹر سی ایم آئی اسپتال کے فزیشین ڈاکٹر جی ایم پرساد نے بتایا کہ’’صرف ایک ہی ہفتہ میں ہمارے اسپتال میں ایک سو کے قریب ڈینگی کے مریضوں کا داخلہ ہوا ہے۔ جب سے شدید برساتیں شروع ہوئی ہیں ، ہمارے یہاں جراثیمی بخار اور جلدی امراض کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ ڈینگی اور جراثیمی بخار کے مریضوں کی اسپتال میں داخلہ کی مدت میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے اور یہ بے حد خطرناک صورت حال ہے‘‘۔نیشنل ویکٹر بورن ڈیسیزس کنٹرول پروگرام کی ریاستی شاخ کے افسران کا کہنا ہے کہ جراثیم کے ذریعہ پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ لیکن جگہ جگہ پانی کا جماؤاور اس میں گندے پانی کی شمولیت ، خاص طور پر بارشوں کے بعد ، صورت حال کو ابتر بنارہے ہیں۔بہر حال ہم لوگ حالات پر قابو پانے کے لئے شہر کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں۔شہر کے کئی صحت ماہرین اور اسپتالوں کے ذمہ داران نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ شہر میں ٹائفائیڈ کے امراض میں اضافہ کے بھی اندیشے ہیں ، لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگ راستوں کے کنارے بکنے والی اشیاء کھانے سے احتراز کریں اور اس کے علاوہ پان ی کے استعمال کے سلسلہ میں بھی احتیاظ برتیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خاص طو ر پر ان علاقوں میں جہاں پانی زیادہ رکتا ہے، ٹائفائیڈ کے معاملات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
(بشکریہ: سالار نیوز)