بی جے پی لیڈر پہلے تاریخ کا مطالعہ کریں: پرمیشور

12:13PM Thu 15 Nov, 2018

ٹمکور:15؍ نومبر (سالارنیوز) سردار ولبھ بھائی پٹیل کو وزیراعظم بننے کا موقع ملا تھا، جو جواہر لعل نہرو نے چھین لیا اور پٹیل کو یہ عہدہ نہیں مل سکا۔ اس طرح کے الزامات بی جے پی لیڈر لگاتے آرہے ہیں اور افواہیں پھیلاتے آرہے ہیں۔ بی جے پی لیڈروں کو چاہئے کہ سب سے پہلے تاریخ کا غور سے مطالعہ کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ملک کی ترقی اور تعمیر میں کانگریس اور جواہر لعل نہرو کا کردا رکیا ہے۔ یہ بات نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کی۔انہوں نے یہاں پنڈت جوائر لعل نہرو کے یوم پیدائش اور یوم اطفال کے جلسے میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 70برسوں میں ملک کی ترقی جتنی ہوئی ہے اس سے پوری دنیا حیران ہے۔ ملک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہورہا ہے۔ اس ملک کو ترقی کی راہ پرجواہر لعل نہرو نے ہی گامزن کیا تھا اور ترقیاتی بنیادوں کو مضبوطی فراہم کی تھی۔ جس کے تحت عام وزرائے اعظم نے اس ملک کی ترقی کیلئے جدوجہد کی۔ تعلیم، صنعت اور زراعت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کانگریس لیڈروں کی طرف سے ہی لائی گئی تھی۔ غیر ضروری تنقید ٹھیک نہیں ہے۔ تحریک آزادی میں بھی جواہر لعل نہرو کابہت بڑا تعاون رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم بننے کیلئے کوئی لابی نہیں چلائی تھی ان کی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر انہیں وزیر اعظم بنایا گیا تھا اور سب کی متفقہ رائے سے انہیں ملک کا وزیر اعظم منتخب کیا گیاتھا۔ پرمیشور نے مزید کہا کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور نوٹ بندی کا فیصلہ کر کے ملک کے عوام کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ وزیر اعظم کے ان فیصلوں سے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کا فائدہ ہوا ہے، غریب عوام کانہیں۔ آئندہ دنوں ملک کے عوام وزیر اعظم کو ضرور سبق سکھائیں گے۔ پرمیشور نے مزید بتایا کہ جناردھن ریڈی کی گرفتاری اور عدالت کے فیصلے کے تعلق سے پولیس اعلیٰ افسروں سے جانکاری حاصل کی گئی ہے۔ پولیس بغیر ثبوت کسی کو گرفتار نہیں کرتی، جناردھن ریڈی کی گرفتاری سیاسی سازش یا انتقامی کارروائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیپو جینتی حکومت کا پروگرام ہے۔ ٹیپو جینتی کا مسئلہ حساس ہونے کے سبب متنازعہ بیانات دینے والوں پر کڑی نظر رکھنے پولیس کو سخت احکامات دیئے گئے تھے۔ کسی کو بھی بلا وجہ گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ٹیپو سلطان کے بارے میں تنقید اور رائے پیش کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، مگر اشتعال انگیز بیانات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔