علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل رینکنگ: پیغام اور حقیقتِ حال
05:10PM Mon 17 Apr, 2017
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے تحقیق اور تبدیلئ نو میں مہارت حاصل کی
ڈاکٹر جسیم محمد
حکومتِ ہند کی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ رینکنگ فریم ورک( این آئی آر ایچ) کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اس سال19واں مقام دیاگیا ہے جبکہ گذشتہ سال2016میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی10ویں مقام پر تھی۔ اس کے نتیجہ میں یہ پیغام گیا ہے گویا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعلیم کے میدان میں تنزلی کا شکار ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وسائل اور ترقیات کو پیشِ نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج بھی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں ملک کا صفِ اول کا تعلیمی ادارہ ہے۔ کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل ہمیں یہ جانناہوگا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) کا اس تعلق سے کیا خیال ہے۔
[caption id="attachment_139297" align="alignleft" width="180"]
AMU VC[/caption]
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اس تعلق سے کہا کہ گذشتہ سال2016میں وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے رینکنگ میں آئی آئی ٹیز کو شامل نہیں کیا تھا لیکن اس سال انہیں شامل کیاگیا ہے جس سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ بھی متاثر ہوئی ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی پرسپیشن کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کوصرف16نمبر دئے گئے ہیں جبکہ بنارس ہندو یونیورسٹی کو44نمبر۔ اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو44نمبر دئے جاتے تو وہ ملک کی اولین یونیورسٹی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ23-22؍اپریل2016کویونیورسٹی کیمپس میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے جس کے نتیجہ کے طور پر درس و تدریس کا عمل متاثرہوا۔ صرف یہی نہیں بلکہ سابق رکن پارلیامنٹ مسٹر وسیم احمد نے مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کئے جن سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقار کو صدمہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نہ تو تحقیق کے میدان میں پیچھے ہے اور نہ ہی تعلیمی میدان میں۔
اگر یونیورسٹی کی ترقیات کا مثبت جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ ( ریٹائرڈ کے دور میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہر میدان میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ جب لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا تھا تب انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ملک کی نمبر ایک یونیورسٹی بنانے کا بیڑا اٹھایا تھا۔انہوں نے یونیورسٹی میں تحقیق کو فروغ دیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ ہمارا تحقیقی عمل محض کاغذات پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ نئی ایجادات کی بنیاد بنے اور ان کا پیٹنٹ بھی کرایا جانا چاہئے۔ یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے عہد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنی نئی ایجادات کے پیٹنٹ کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے درخواست دی ہے
صرف یہی نہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنے نینو کھاد اور پھلوں و سبزیوں کو بغیر ایئر کنڈیشنڈ صحیح طور پر رکھنے کا کام بھی شروع کیاہے جسے دوسرے سبز انقلاب کا نام دیا جاسکتا ہے۔
اسی سلسلہ کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ویسٹ واٹر کو ازسرِ نو ری ۔سائیکلنگ کرنے کا طریقہ ایجاد کیا جس میں کسی قسم کی توانائی کی کھپت نہیں کی گئی ہے بلکہ اینو روبک ڈائجیشن کا استعمال کیاگیا۔ اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آٹو موٹو میدان کے لئے شمسی توانائی کا استعمال شروع کیاگیا جس کے لئے نہ صرف حکومتِ ہند کی ہیوی انڈسٹریزوزارت بلکہ مہندرا اینڈ مہندرا اور ماروتی ادیوگ سے بھی سمجھوتا کیاگیا۔
وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ(ریٹائرڈ) تحقیق کے معیار کے تعلق سے حد درجہ سنجیدہ ہیں اور اسی لئے انہوں نے یونیورسٹی میں کوالٹی ایشورینس سیل قائم کیا تاکہ تعلیم و تحقیق کے معیار کو بڑھایا جاسکے۔
جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ کا سوال ہے تو مختلف اوقات پر مختلف ایجنسیوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اعلیٰ رینکنگ دی ہے۔ اس سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو حکومتِ ہند کی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے19ویں مقام پر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں ایک منفی پیغام کی ترسیل ہوئی ہے لیکن حقیقتِ حال یہ نہیں ہے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کی صفِ اول کی یونیورسٹی ہے۔
اس سال وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے ذریعہ دی گئی رینکنگ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ٹیچنگ اینڈ لرننگ میں58.56نمبر حاصل ہوئے جبکہ بی ایچ یو کو47.85 اور جے این یو کو62.11 نمبر حاصل ہوئے۔2016میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو66.73نمبر، بی ایچ یو کو70.28 اور جے این یو کو89.75نمبر حاصل ہوئے تھے۔ ریسرچ اینڈ پروفیشنل پریکٹس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو36.20نمبر،بی ایچ یو کو49.96اور جے این یو کو33.36 نمبر ملے۔ اسی طرح گریجویشن آؤٹ کمس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو87.43نمبر بی ایچ یو کو94.36اور جے این یو کو98.71نمبر حاصل ہوئے اور انکلوژو میدان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اس سال51.55نمبر، بی ایچ یو کو62.97اور جے این یو کو82.40نمبر حاصل ہوئے لیکن پرسپیشن کے میدان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو16.62نمبر حاصل ہوئے جبکہ بی ایچ یو کو44.1نمبر اورجے این یو کو83.33نمبر حاصل ہوئے ہیں۔ سال2016میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو86نمبر، بی ایچ یو کو99 نمبر اور جے این یو کو98نمبر ملے تھے ۔باریک بینی سے جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ صرف پرسپیشن کے نمبرات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی16.62، بی ایچ یو44.1 اور جے این یو83.33 نمبر کی وجہ سے ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی19ویں مقام پر پہنچ گئی۔ اس تعلق سے یہ پیشِ نظر رکھا جائے کہ پرسپیشن خود ایک ایسا میدان ہے جس سے کسی یونیورسٹی کے معیار کو نہیں تولا جاسکتا۔
ایک دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ مختلف ایجنسیوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو درج ذیل رینکنگ دی ہے۔
ٹائمس ہائر ایجوکیشن، یوکے نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایشیا کی50ویں سب سے بہتر یونیورسٹی قرار دیا ہے۔ دا ویک ہنس بیسٹ انڈین یونیورسٹی سروے کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چوتھے نمبر پر تھی۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا جے این میڈیکل کالج12ویں مقام پر، جبکہ فائن آرٹس شعبہ10ویں مقام پر اور انجینئرنگ کالج23ویں مقام پر۔ امریکہ کی یو ایس نیوز ایف ورلڈ رپورٹ کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کی دوسری سب سے بہتر یونیورسٹی ہے۔
(1) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ پر ایک اور منفی اثر پڑاہے۔ پرسپیشن کی کیٹیگری میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اتنے کم نمبر ملنے کا بڑا سبب یہ ہے کہ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ ملک کی میڈیا نے بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ٹرائل کیا۔ جہاں تک سوشل میڈیا کا سوال ہے یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ کسی بھی سبب سے وائس چانسلر کے خلاف تھے انہوں نے سوشل میڈیا پر ان کی شبیہہ خراب کی لیکن ملک کے میڈیا کو تو حقائق پر مبنی خبریں شائع کرنا چاہئے تھیں۔ میڈیا نے اس بات کا بالکل خیال نہیں کیا کہ وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے دور میں کیا ترقیاتی کام ہوئے اور کس طرح تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیاں چلائی گئیں بلکہ اس کے برعکس میڈیا خصوصی طور پر منفی تبصرے کرتا رہا۔
(2)آج اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ میں کمی واقع ہوئی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر تعلیمی ادارے کی رینکنگ بہتر بھی ہوتی ہے اور اس میں گراوٹ بھی آتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی رینکنگ بھی اس سال12ویں مقام سے گر کر54ویں مقام پر پہنچ گئی لیکن اپنے تعلیمی ادارے کی رینکنگ کو بہتر بنانے کا عمل ہر ادارے کو کرنا چاہئے۔جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سوال ہے آج بھی وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ یونیورسٹی کو ملک کی نمبر ایک یونیورسٹی بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
اس لئے وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے ذریعہ دی گئی رینکنگ سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اعلیٰ معیاری تعلیمی اور تحقیقی عمل جاری ہے اور اسے ملک کی اولین سبز یونیورسٹی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ فی الوقت ہمیں صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے خوابوں کو تعبیر سے ہمکنار کرنے پر توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ رینکنگ کے نام پر میڈیا کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کاٹرائل نہیں کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کو یہ جاننا چاہئے کہ سبھی تعلیمی ادارے اپنے معیار کو بلند کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی کوششوں کا انحصار ان کے وسائل پر ہوتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ ( ریٹائرڈ) کی پُر عزم کوششوں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تاریخ ساز ترقیات سے ہمکنار ہوئی ہے جس کو سراہا جانا چاہئے محض این آئی آر ایف کی رینکنگ کی بنیاد پر منفی تبصرہ سے گریز کرنا چاہئے۔
( مصنف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میڈیا صلاح کار ہیں اور زیرِ نظر مضمون ان کی ذاتی رائے ہے۔
ای۔میل:jasimoffice@gmail.com
ڈاکٹر جسیم محمد
حکومتِ ہند کی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ رینکنگ فریم ورک( این آئی آر ایچ) کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اس سال19واں مقام دیاگیا ہے جبکہ گذشتہ سال2016میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی10ویں مقام پر تھی۔ اس کے نتیجہ میں یہ پیغام گیا ہے گویا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعلیم کے میدان میں تنزلی کا شکار ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وسائل اور ترقیات کو پیشِ نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج بھی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں ملک کا صفِ اول کا تعلیمی ادارہ ہے۔ کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل ہمیں یہ جانناہوگا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) کا اس تعلق سے کیا خیال ہے۔
[caption id="attachment_139297" align="alignleft" width="180"]
AMU VC[/caption]
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اس تعلق سے کہا کہ گذشتہ سال2016میں وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے رینکنگ میں آئی آئی ٹیز کو شامل نہیں کیا تھا لیکن اس سال انہیں شامل کیاگیا ہے جس سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ بھی متاثر ہوئی ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی پرسپیشن کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کوصرف16نمبر دئے گئے ہیں جبکہ بنارس ہندو یونیورسٹی کو44نمبر۔ اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو44نمبر دئے جاتے تو وہ ملک کی اولین یونیورسٹی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ23-22؍اپریل2016کویونیورسٹی کیمپس میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے جس کے نتیجہ کے طور پر درس و تدریس کا عمل متاثرہوا۔ صرف یہی نہیں بلکہ سابق رکن پارلیامنٹ مسٹر وسیم احمد نے مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کئے جن سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وقار کو صدمہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نہ تو تحقیق کے میدان میں پیچھے ہے اور نہ ہی تعلیمی میدان میں۔
اگر یونیورسٹی کی ترقیات کا مثبت جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ ( ریٹائرڈ کے دور میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ہر میدان میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ جب لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا تھا تب انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ملک کی نمبر ایک یونیورسٹی بنانے کا بیڑا اٹھایا تھا۔انہوں نے یونیورسٹی میں تحقیق کو فروغ دیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ ہمارا تحقیقی عمل محض کاغذات پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ نئی ایجادات کی بنیاد بنے اور ان کا پیٹنٹ بھی کرایا جانا چاہئے۔ یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے عہد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنی نئی ایجادات کے پیٹنٹ کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے درخواست دی ہے
صرف یہی نہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنے نینو کھاد اور پھلوں و سبزیوں کو بغیر ایئر کنڈیشنڈ صحیح طور پر رکھنے کا کام بھی شروع کیاہے جسے دوسرے سبز انقلاب کا نام دیا جاسکتا ہے۔
اسی سلسلہ کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ویسٹ واٹر کو ازسرِ نو ری ۔سائیکلنگ کرنے کا طریقہ ایجاد کیا جس میں کسی قسم کی توانائی کی کھپت نہیں کی گئی ہے بلکہ اینو روبک ڈائجیشن کا استعمال کیاگیا۔ اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آٹو موٹو میدان کے لئے شمسی توانائی کا استعمال شروع کیاگیا جس کے لئے نہ صرف حکومتِ ہند کی ہیوی انڈسٹریزوزارت بلکہ مہندرا اینڈ مہندرا اور ماروتی ادیوگ سے بھی سمجھوتا کیاگیا۔
وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ(ریٹائرڈ) تحقیق کے معیار کے تعلق سے حد درجہ سنجیدہ ہیں اور اسی لئے انہوں نے یونیورسٹی میں کوالٹی ایشورینس سیل قائم کیا تاکہ تعلیم و تحقیق کے معیار کو بڑھایا جاسکے۔
جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ کا سوال ہے تو مختلف اوقات پر مختلف ایجنسیوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اعلیٰ رینکنگ دی ہے۔ اس سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو حکومتِ ہند کی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے19ویں مقام پر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں ایک منفی پیغام کی ترسیل ہوئی ہے لیکن حقیقتِ حال یہ نہیں ہے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کی صفِ اول کی یونیورسٹی ہے۔
اس سال وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے ذریعہ دی گئی رینکنگ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ٹیچنگ اینڈ لرننگ میں58.56نمبر حاصل ہوئے جبکہ بی ایچ یو کو47.85 اور جے این یو کو62.11 نمبر حاصل ہوئے۔2016میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو66.73نمبر، بی ایچ یو کو70.28 اور جے این یو کو89.75نمبر حاصل ہوئے تھے۔ ریسرچ اینڈ پروفیشنل پریکٹس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو36.20نمبر،بی ایچ یو کو49.96اور جے این یو کو33.36 نمبر ملے۔ اسی طرح گریجویشن آؤٹ کمس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو87.43نمبر بی ایچ یو کو94.36اور جے این یو کو98.71نمبر حاصل ہوئے اور انکلوژو میدان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اس سال51.55نمبر، بی ایچ یو کو62.97اور جے این یو کو82.40نمبر حاصل ہوئے لیکن پرسپیشن کے میدان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو16.62نمبر حاصل ہوئے جبکہ بی ایچ یو کو44.1نمبر اورجے این یو کو83.33نمبر حاصل ہوئے ہیں۔ سال2016میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو86نمبر، بی ایچ یو کو99 نمبر اور جے این یو کو98نمبر ملے تھے ۔باریک بینی سے جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ صرف پرسپیشن کے نمبرات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی16.62، بی ایچ یو44.1 اور جے این یو83.33 نمبر کی وجہ سے ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی19ویں مقام پر پہنچ گئی۔ اس تعلق سے یہ پیشِ نظر رکھا جائے کہ پرسپیشن خود ایک ایسا میدان ہے جس سے کسی یونیورسٹی کے معیار کو نہیں تولا جاسکتا۔
ایک دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ مختلف ایجنسیوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو درج ذیل رینکنگ دی ہے۔
ٹائمس ہائر ایجوکیشن، یوکے نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایشیا کی50ویں سب سے بہتر یونیورسٹی قرار دیا ہے۔ دا ویک ہنس بیسٹ انڈین یونیورسٹی سروے کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چوتھے نمبر پر تھی۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا جے این میڈیکل کالج12ویں مقام پر، جبکہ فائن آرٹس شعبہ10ویں مقام پر اور انجینئرنگ کالج23ویں مقام پر۔ امریکہ کی یو ایس نیوز ایف ورلڈ رپورٹ کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کی دوسری سب سے بہتر یونیورسٹی ہے۔
(1) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ پر ایک اور منفی اثر پڑاہے۔ پرسپیشن کی کیٹیگری میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اتنے کم نمبر ملنے کا بڑا سبب یہ ہے کہ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ ملک کی میڈیا نے بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ٹرائل کیا۔ جہاں تک سوشل میڈیا کا سوال ہے یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ کسی بھی سبب سے وائس چانسلر کے خلاف تھے انہوں نے سوشل میڈیا پر ان کی شبیہہ خراب کی لیکن ملک کے میڈیا کو تو حقائق پر مبنی خبریں شائع کرنا چاہئے تھیں۔ میڈیا نے اس بات کا بالکل خیال نہیں کیا کہ وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے دور میں کیا ترقیاتی کام ہوئے اور کس طرح تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیاں چلائی گئیں بلکہ اس کے برعکس میڈیا خصوصی طور پر منفی تبصرے کرتا رہا۔
(2)آج اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رینکنگ میں کمی واقع ہوئی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر تعلیمی ادارے کی رینکنگ بہتر بھی ہوتی ہے اور اس میں گراوٹ بھی آتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی رینکنگ بھی اس سال12ویں مقام سے گر کر54ویں مقام پر پہنچ گئی لیکن اپنے تعلیمی ادارے کی رینکنگ کو بہتر بنانے کا عمل ہر ادارے کو کرنا چاہئے۔جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سوال ہے آج بھی وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ یونیورسٹی کو ملک کی نمبر ایک یونیورسٹی بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
اس لئے وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کے ذریعہ دی گئی رینکنگ سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اعلیٰ معیاری تعلیمی اور تحقیقی عمل جاری ہے اور اسے ملک کی اولین سبز یونیورسٹی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ فی الوقت ہمیں صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے خوابوں کو تعبیر سے ہمکنار کرنے پر توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ رینکنگ کے نام پر میڈیا کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کاٹرائل نہیں کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کو یہ جاننا چاہئے کہ سبھی تعلیمی ادارے اپنے معیار کو بلند کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی کوششوں کا انحصار ان کے وسائل پر ہوتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ ( ریٹائرڈ) کی پُر عزم کوششوں سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تاریخ ساز ترقیات سے ہمکنار ہوئی ہے جس کو سراہا جانا چاہئے محض این آئی آر ایف کی رینکنگ کی بنیاد پر منفی تبصرہ سے گریز کرنا چاہئے۔
( مصنف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میڈیا صلاح کار ہیں اور زیرِ نظر مضمون ان کی ذاتی رائے ہے۔
ای۔میل:jasimoffice@gmail.com