وجے مالیا پر بولے راہل گاندھی: جیٹلی سب جانتے ہوئے بھی کیوں چپ رہے

11:29AM Thu 13 Sep, 2018

صدر کانگریس راہل گاندھی نے مودی حکومت پر ایک مجرم کو ملک سے بھگانے کا الزام لگاتے ہوئے آج سوال کیا کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو وجے مالیہ نے جب اپنے لندن فرار ہونے کی اطلاع دیدی تھی تو انہوں نے فوراً سی بی آئی، ای ڈی یا پولس کو اس کی اطلاع کیوں نہیں دی؟ یہاں ایک پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے قوم کو گمراہ کرنے کا ارون جیٹلی پر الزام لگاتے ہوئے ان سے استعفی کی مانگ کی اور کہا کہ قوم کے ساتھ دھوکے کے اس معاملے میں وزیر خزانہ کا محض یہ اعتراف کافی ہے۔ وجے مالیہ نے انہیں اپنے لند ن جانے کی اطلاع  فرار ہونے سے دوروز قبل دیدی تھی۔ انہیں اب یہ بتانا ہوگا کہ انہوں از خود مالیہ کو ملک سے فرار ہونے دیا یا ’’اوپر سے دباو تھا۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ اوپر سے مراد کیا مودی جی ہیں تو راہل گاندھی نے برجستہ کہا کہ وزیر اعظم ہی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔
 اس موقع پر کانگریس کے پی ایل پونیا نے دعویٰ کیا کہ وجے مالیہ اور  جیٹلی کی ملاقات سرسری یا اتفاقی ہرگز نہیں تھی۔ انہوں نے یکم مارچ 2016 کو خود اپنی آنکھوں سے دونوں کو پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال کے ایک کونے میں کھڑے ہوکر اور پھر بیٹھ کر کوئی پندرہ بیس منٹ تک بات کرتے دیکھا ۔ اس کی تصدیق وہاں نصب سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ سے لگائی جا سکتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ کل ارون جیٹلی نے بتایا تھا کہ وجے مالیہ جی نے ان کو پارلیمنٹ میں غیر رسمی طور پر اپروچ کیا تھا۔ جیٹلی لمبے بلاگ لکھتے ہیں لیکن اس میٹنگ کے بارے میں کبھی کچھ نہیں لکھا یا کہا ۔ اس لحاظ سے ان کا یہ کہنا سرا سر جھوٹ ہے کہ مالیہ جی ان کے پیچھے آکر دوتین الفاظ بول کر چلے گئے۔ کانگریس کے صدر نے دعوی کیا ہے کہ کروڑوں روپے کے بینک گھپلے کے ملزم کے ملک سے باہر جانے سے پہلے وزیرخزانہ ارون جیٹلی کے درمیان طویل بات چیت ہوئی تھی اور اب ان کی ملاقات کے’ ثبوت‘ کے پیش نظر  جیٹلی کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ  جیٹلی اور مالیہ کے درمیان کوئی نہ کوئی ’ڈیل‘ ضرورہوئی تھی اور دونوں کے درمیان طویل میٹنگ کے کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ پی ایل پونیا عینی شاہد ہیں۔