کانگریس لیڈران کے خلاف  آننت کمار کے نازیبا تبصروں کی بھٹکل میں کانگریس پارٹی نے کی مذمت

02:08PM Thu 31 Jan, 2019

’آننت کمار نازیبا تبصروں کے بجائے  ضلع کی ترقی کی فکر کریں‘۔ منکال ویدیا بھٹکل: 31 جنوری، 19 (بھٹکلیس نیوز بیورو) مرکزی وزیر آننت کمار ہیگڈے کی جانب سے کانگریس صدر راہل گاندھی، اتر کینرا ضلع  کے انچارج وزیر آر وی دیش پانڈے اور کانگریس کے ریاستی صدر مسٹردنیش گنڈو راؤ کی بیوی کے تعلق سے کیے گئے نازیبا تبصروں  کی مذمت کرتے ہوئے آج بھٹکل سرکیوٹ ہاؤس میں کانگریس پارٹی کی جانب سے ایک نشست منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر سابق رکن اسمبلی مسٹر منکال ایس ویدیا نے  کہا کہ ’’پچھلے کئی سالوں سے ضلع کے نگران کار وزیر آر وی دیش پانڈے ضلع میں ترقی کے کام کر رہے ہیں اور اس کے مقابلے میں اگر آننت کمار کے کام دیکھے جائیں تو کچھ بھی نہیں ہیں۔آننت کمار کا مقصد ایسی بیان بازیوں سے اپنی غلطیوں کو چھپانے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا‘‘۔ مسٹر ویدیا آننت کمار کو مذہب کے نام پر گندی سیاست  کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے قریب آننت کمار نے ہوناور کے پریش میستاکی موت پر بہت ہی ہمدردی دکھائی تھی ۔اگر ان کو اصل میں ہمدردی ہوتی تو ملپے سے لاپتہ ہونے والی کشتی پر جتنے ہندو تھے ان کی بھی فکر ہوتی اور وہ ان کے تعلق سے بھی کچھ اقدامات کرتے ۔اس سے صاف طاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف مکھوٹے کا استعمال کرتے ہیں اور اپنا سیاسی الو سیدھا کرتے ہیں۔ منکال نے سوال کیا کہ مودی سرکار میں  کشتیوں کے ذریعے لاپتہ ہونا کیا اچھے دن ہیں؟ موصوف نے آننت کمار کے ان تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہئے کہ وہ تبصروں اور بیان بازیوں کو چھوڑ کر ضلع میں ترقی کی فکر کریں۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اگر آننت کمار اپنے ان بیانات سے باز نہیں آتے تو ہمیں مجبوراً احتجاج کا راستہ اپنا نا ہوگا۔ خیال رہے کہ آننت کمار دو چار روز سے لگاتار کانگریس لیڈران پر نازیبا تبصرے کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے ایک تقریب میں راہل گاندھی کو  مخلوط النسل (Hybrid) کہتے ہوئے تبصرہ کیا تھا کہ ان کے والد مسلم تھے، ان کی والدہ عیسائی ہیں اور وہ خود کو وہ برہمن بولتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیش گنڈو راؤ کے خلاف نازیبا تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف مسلم لڑکیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں جبکہ آر وی دیش پانڈے کو انہوں نے ’پرسنٹیج پانڈے‘ کا لقب دیا ہے۔ اس نشست میں  بھٹکل کانگریس پارٹی کے ممبران کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ (رپورٹ: رضوان گنگاولی)