تین طلاق پر بید رکے رکن پارلیمان بھگونت کھوبا کابیان

03:36PM Thu 24 Aug, 2017

مسلم خواتین کے مسائل سے نابلد ہونے کی علامت  بیدر۔(بھٹکلیس نیوز ) بیدر کے رکن پارلیمان بھگونت کھوبا نے تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو پارٹی ، وزیر اعظم اور پارٹی کے نعروں کے حق میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک بیان جاری کرکے کہاہے کہ تین طلاق دراصل ہمارے ملک میں مسلم خواتین پرہونے والا ظلم ہے۔ اس پر روک لگانے کے لئے محترم وزیر اعظم نے اس تعلق سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں دوبارہ کہاہے کہ تین طلاق دراصل ہمارے دیش کی مسلم خواتین پر ظلم ہے۔ اور آگے بتایاہے کہ اس سے لڑکیوں کے بنیادی حقوق پر ضرب پڑتی ہے۔ اس پر پابندی عائد کرکے ملک کی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنایاہے۔ ہمارے ملک کی مسلم خواتین کو اس سے نجات ملنی چاہیے۔ وزیر اعظم (بھگونت کھوبا نے سارے بیان میں کہیں پربھی وزیر اعظم کانام نہیں لکھاہے) نے رٹ داخل کرنے کاجوفیصلہ لیا ہے وہ مناسب ہے۔جس کے ذریعہ محترم وزیر اعظم نے ’’سب کاساتھ سب کا وکاس‘‘نعرے کو ثابت کرکے دکھایاہے۔ اس کے لئے محترم وزیر اعظم کو میرے انتخابی حلقہ کی تمام جنتا کروڑوں بار تہنیت پیش کرتی ہے۔ دستخط کی جگہ بھگونت کھوبا رکن پارلیمان بیدر نام کی کنڑازبان میں مہر لگائی گئی ہے۔ مسلم مسائل یامسلم خواتین کے ایشوز پر رکن پارلیمان بھگونت کھوبا کے مشیر کون ہیں اس کا پتہ نہیں ہے۔ وہ صرف سیاسی بیان دینے پر اکتفا کرچکے ہیں۔ سیاسی بیانات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ سیاسی بیانات مسائل کو پیچیدہ بناتے ہیں جس سے آپس میں دوریاں پید اہوتی ہیں۔ جماعت اسلامی ہند بیدراور جمعیتہ العلماء ہند بیدر نے بھگونت کھوبا ایم پی کو مسلمانوں اور مسلم مسائل سے قریب کرنے کی کوشش ضرورکی لیکن وہی ڈھاک کے تین پات ۔ رکن پارلیمان بیدر کابیان بتاتاہے کہ وہ مسلم خواتین کے مسائل سے بالکل ہی ناواقف ہیں۔ ایک ایسا شخص جو لنگایت مذہب سے تعلق رکھتاہے اس کو زیب نہیں دیتا کہ وہ بغیر کچھ جانے بوجھے بیان دے کر وزیر اعظم کی نظروں میں اپنے آپ کو سرخروکرنے کی کوشش کرے۔ رکن پارلیمان بتائیں کہ انہوں نے کتنی مسلم خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑاہونے کے لئے سرکاری اور خانگی سیکٹرمیں نوکریاں دی ہیں۔یاکتنی مسلم لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ایم پی فنڈسے مدددی ہے۔ آپ وہی ایم پی ہیں جنہوں نے گورٹا(بی) جیسے گاؤں کو گود لیا اور وہاں کی ترقی کے لئے کبھی اس کادورہ تک نہیں کیا۔ لیکن جب پولیس ایکشن کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف گورٹا (بی) میں نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے اور بیانات دینے کی بات آتی ہے تو آپ گورٹا(بی) پہنچ جاتے ہیں۔آپ اپنی روش کو بدلیں۔ مسلم دشمنی آپ کے لئے اور بیدر پارلیمانی حلقہ کے لئے مناسب نہیں ہے۔ آپ کا اقتدار تھوڑے دن کی بات ہے ۔ پہلے والے نہیں رہے ، آپ بھی برسراقتدار نہیں رہیں گے۔ کبھی کبھی آدمی کو خاموش بھی رہنا چاہیے ۔سیاسی بیان بازی سے ہمیشہ فائدہ ہوایساممکن نہیں ۔