ہندوستان میں جہادجائزنہیں ،برادران وطن کواسلامی تعلیمات سے واقف کرانے کی ضرورت
01:58PM Sat 6 Feb, 2016
اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام بدرپور میں منعقدہ تین روزہ سمینار کے دوسرے دن مقررین کا اظہارخیال
بدرپور؍گوہاٹی(راست)مشرقی ہندکی سرحد پر واقع بدر پور ضلع کریم گنج( آسام) میں جاری اسلامک فقہ اکیڈمی( انڈیا )کے سہ روزہ انٹرنیشنل فقہی سمینار کے آج دوسرے دن اہل کتاب اور ان سے متعلق مسائل، اسلام میں معذوروں اور بوڑھوں کے حقوق ،طلاق غضبان ،اختلاف رائے اور وحدت امت جیسے اہم موضوعات پر مقالات پیش کئے گئے ،جس کے بعد شرکاء نے مناقشہ میں حصہ لیکر اپنی رائے پیش کی۔اس موقع پر سمینار کے روح رواں مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے کہاکہ مغربی تہذیب کی بنیاد خود غرضی پر ہے ،یورپ میں جو سوتیلابرتاء بیوی کے ساتھ ہوتاہے وہی سلوک والدین کے بھی ہورہاہے جو یقیناًتکلیف دہ ہے ،دنیابھر میں ہر طبقے کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری ہے لیکن مظلوم والدین اور بوڑھوں کے حقوق کیلئے کوئی آواز اٹھانے والانہیں ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقیات سے واقف کرائیں ۔مولانا رحمانی نے کہاکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دعوت کے کام میں غفلت کی وجہ سے مسلم اقلیت ملکوں میں دعوت اسلام کی خدمت نہیں کے برابر کی گئی ہے،خودہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ برادران وطن کی بڑی تعداد اذان کے معنی اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی ناواقف ہیں ۔انہوں نے فرمایاکہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک جہاں تمام مذاہب کودستوری ضمانت حاصل ہے یہاں کسی بھی گروہ یاجماعت کی طرف سے برادران وطن کے خلاف جہاد کرناشرعاًدرست نہیں ہے ۔دارالعلوم زاہدان ایران کے ناظم مولانامحمدقاسم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ جدید مسائل کے شرعی حل کیلئے اجتماعی غور وفکر ایک بہترین ذریعہ ہے ہمیں نئی سوچ وفکرکے ساتھ شرعی امورکو مدنظر رکھتے ہوئے ہر فیصلہ کرناچاہئے تاکہ جو مسائل پیدا ہورہے ہیں اس کاآسانی کے ساتھ حل تلاش کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ فقہ اکیڈمی کی فکر ی اور علمی خدمات لائق ستائش ہے ۔مولانا عتیق احمد بستوی نے کہاکہ آج پوری دنیامیں جو سماجی صورت حال ہے اس سے ہر طبقے کے لوگ متاثرہیں اس لئے آج جن مسائل پر ہم سب گفتگو کررہے ہیں وہ معاشرہ کا ایک مسئلہ ہے جس کے ہر پہلو پر ہماری نظرہونی چاہئے ۔فقہ اکیڈمی کے صدر مولانا نعمت اللہ اعظمی نے کہاکہ عمردراز لوگوں کیلئے ہاسٹل قائم کرنے کارواج مغربی ممالک کی دین ہے اگر خاندانی نظام کو باقی رکھناچاہتے ہیں تو اپنے نظام کو ہم بہتر بناناہوگا۔آج کی نشست میں جن اہم علماء کرام نے مناقشہ میں حصہ لیا ان میں امیرشریعت کرناٹک مفتی اشرف باقوی، مفتی عبیداللہ اسعدی،مولانامحبوب فروغ قاسمی، مولانا خورشید احمداعظمی،مولانا شاہ عالم گورکھپوری،مولاناسلطان کشمیری،مفتی سعیدالرحمن ممبئی،مولانا غلام رسول قاسمی جھارکھنڈ،مولاناظہیر احمد کانپوری،مولانا اشرف ساوتھ افریقہ،مولانا عبداللہ جولم کیرالا،مفتی محبوب علی وجہی،ڈاکٹر شاہجہاں ندوی، شیخ الحدیث قاضی یوسف علی کے نام قابل ذکرہیں ۔فقہ اکیڈمی کایہ سہ روزہ سمینار تادم تحریر جاری ہے، کل شام اختتامی نشست میں تمام مقالات کا خلاصہ اور منظورشدہ تجاویزپیش کئے جائیں گے۔