رشتۂ ازدواج محبت و الفت سے مضبوط اور شکوک و شبہات سے کمزور ہو جا تا ہے 

02:15PM Sun 6 Aug, 2017

جامع مسجد سٹی میں محفل نکاح سے مو لا محمد مقصود عمران رشادی کا خطاب بنگلور:(بھٹکلیس نیوز )رشتۂ ازدواج ایک عجیب کر شما تی رشتہ ہو تا ہے رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا اس رشتہ کے مانند میں نے کسی اور رشتہ میں محبت نہیں دیکھی ایک مضبوط قوی دائمی اور لازمی رشتہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ لطیف نازک اور باریک بھی ہو تا ہے زوجین باہمی الفت و محبت اور حقوق کی پاسداری کر تے ہیں تو یہ رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہو تا ا تا ہے اور حاکم و محکوم شکوک شبہات والی کیفیات اور حقوق سے نا بلد ہو نے کی صورت میں یہ نازک اور کمزور ہو تا چلا جا تا ہے لہذا حقوق سے واقفیت اور اس کا پاس و لحاظ زوجین کو ایک خوشگوار پر امن اور سکون والی زندگی عطا کر تی ہے مذکورہ با لا زرین خیالات کا اظہار بنگلور سٹی جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی نے4 / اگست2017 ؁ ء کی ماہانہ اجتماعی محفل نکاح کے موقع پر بروز جمعہ بعد نماز جمعہ فر ما یامزید مو لا نا ئے موصوف نے نکاح کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہو ئے فر ما یا نسل انسا نی کی بقاء و تر قی کے لئے اللہ جل شا نہ نے تمام مرودوں اور عورتوں میں شہوا نی قوت ودیعت کی ہے اس شہوا نی قوت کے تقاضوں کو پورا کر نے ہر انسان فطری طور پر مجبور ہے صحیح الاعضاء اور صحیح المزاج رہتے ہو ئے انسان اس قوت کو فنا نہیں کر سکتا جائز اور مہذب طریقہ پر اس شہوت کی تسکین کا سامان نہیں کیا گیا تو دنیا میں بڑا فساد بر پا ہو گا آپ نے بتایا کہ اس دنیا کے ہر معاشرے میں کسی نہ شکل میں نکاح کو ضروری قرار دیا کہ مرد اور عورت ایک معا ہدہ کے تحت معا شرتی بندھن میں بند ھ جا ئیں اور زندگی کے آخری لمحہ تک ایک دوسرے کی رفاقت اور خوشگوار عا ئلی زندگی گذارنے کا عہد کر لیں ۔ نکاح چو نکہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق انبیاء سا بقین کی سنت قرار دیا اور اہل ایمان کو عا ئلی زندگی گذارنے پر آمادہ کیا بعض صحابہ کرامؓ جن پر زہد وتجرد کا غلبہ تھا انہوں نے بیوی کے حقوق ادا کر نے میں کو تا ہی کی تو آپ ﷺ نے انہیں سخت تنبیہ فر ما ئی اور اپنا حوا لہ دیتے ہو ئے فر مایا کہ میں تم میں سب سے زیادہ متقی اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے باوجود راتوں میں سوتا بھی ہوں اور عبادت گذاری بھی کر تا ہوں بعض دن روزہ بھی رکھتا ہوں اور بعض دن روزہ نہیں رکھتا اور عورتوں سے نکاح بھی کر تا ہوں سن لو نکاح میری سنت ہے۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہا جب جا ہلیت اُولیٰ لوٹ کر آ ئی اس کی سج دھج لوگوں کے لئے بہت ہی کشش انگیز ثا بت ہوئی آزادی لا ابالی پن بے راہ روی بے حیا ئی و بر ہنگی اس کے نتائج بھی خطر ناک بے پرواہ ہو کر لوگ اس کی طرف لپکتے چلے گئے مقام عبرت ہے کہ اسلام کے علمبر دار اور رحمت عالم ﷺ کی محبت کے دعوے دار اس حیوا نیت و شیطا نیت کی اس ارذل ترین سطح تک پہنچ جا ئیں گے کہ مال و دو لت کی حرص میں انہیں اپنی بیویوں کے قتل سے بھی دریغ نہ ہو مالی ذمہ داریاں مرد کے سپرد کی تھیں کہ اپنا مال خرچ کر کے عورت سے نکاح کر نے کا حکم دیا تھا لیکن یہ کیسی بے غیرتی حیا ما ختگی ہے کہ بیوی کے سامنے سو لیسی اور در یوزہ گری کر تے ہو ئے خجالت و ندا مت کا کو ئی احساس نہیں ہو تا ۔ اجلاس مذکور کی صدارت الحاج مقبول احمد صاحب صدر جامع مسجد نے فر ما ئی اور حضرت مو لا نا محمد مقصود عمران صاحب کی مستجاب دعاؤں کے ساتھ اجلاس بحسن و خو بی اختتام کو پہنچا۔شرکاء مجلس میں ٹرسٹیان جامع مسجد کے علاوہ عاقدین کے رشتہ دار اور مصلیان کرام کثیر تعداد میں شریک رہے اور خصوصا مقبول احمد صدر جامع مسجد سٹی، سکریٹری جامع العلوم جامع مسجدسید نور الامین انور،نائب سکریٹری جامع العلوم جامع مسجد سیدعبد الغفور ،خازن عطار سید مر تضیٰ حسین عرف غفران ، انٹر نل آڈیٹر اڈوکیٹ عبد العظیم ٹرسٹیان میں سے نوید احمد عطیع اللہ خان ، جئے شفیع اللہ محمد اشفاق، ڈاکٹر محمد عمران، سیف اللہ مقدس اللہ بیگ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔