سعودی عرب میں القاعدہ سے وابستہ دو دہشت گردوں کے سرقلم
04:02PM Thu 20 Aug, 2015
الریاض ۔)ایجنسیاں(سعودی عرب میں حکام نے ایک فرانسیسی انجنیئر کے قتل کے جُرم میں افریقی ملک چاڈ سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں کے سرقلم کردیے ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مجرموں عیسیٰ برکاج اور اسحاق شاکیلہ پر الزام تھا کہ انھوں نے ساحلی شہر جدہ میں 26 ستمبر 2004ء کو فرانسیسی شہری لوراں باربٹ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔مقتول انجنیئر فرانسیسی الیکٹرانکس گروپ تھیلس کے ساتھ فنی معاون (ٹیکنیکل اسسٹنٹ) کے طور پر کام کررہا تھا۔
دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والی ایک خصوصی عدالت نے انھیں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا لیکن ان کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کے حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔دونوں مجرموں نے سعودی عرب میں دوسرے غیرملکیوں کو نشانہ بنانے کا بھی اعتراف کیا تھا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان کے مطابق ان دونوں مجرموں کو سعودی عرب میں دوسرے غیرملکیوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں بھی قصوروار قرار دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ان پر ایک قونصل خانے کی گاڑی کا پیچھا کرنے اور اس پر فائرنگ کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔
سعودی عرب میں 2003ء سے 2006ء تک مختلف مقامات پر دہشت گردی کے حملوں کے دوران باربٹ پہلا فرانسیسی شہری تھا جس کا مملکت میں قتل ہوا تھا۔سعودی حکام نے القاعدہ پران بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور ان حملوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ سعودی اور غیر ملکی ہلاک ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے سنہ 2011ء میں ان حملوں میں ملوّث القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ملکی اور غیرملکی مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں۔خصوصی عدالت کے فیصلے تحت پہلی مرتبہ دہشت گردی میں ملوّث ان دونوں مجرموں کے جمعرات کے روز جدہ میں سرقلم کیے گئے ہیں۔
اس سال اب تک ایک سو تئیس افراد کے مختلف جرائم میں ملوّث ہونے پر سرقلم کیے جاچکے ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2014ء کے دوران سعودی عرب میں کل ستاسی مجرموں کے سرقلم کیے گئے تھے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب ان چند ممالک میں ایک ہے جہاں مجرموں کے سب سے زیادہ سرقلم کیے جاتے یا انھیں پھانسیاں دی جاتی ہیں۔باقی ممالک میں چین ،ایران ،عراق اور امریکا نمایاں ہیں۔
سعودی عرب میں نافذ اسلامی شرعی قانون کے تحت قتل ،مسلح ڈکیتی ،زنا ، منشیات کی اسمگلنگ اور الحاد (دین اسلام چھوڑ کر کفریہ مذہب اختیار کرنے) کی سزا موت ہے اور سعودی عرب میں عدالتوں سے سزائے موت پانے والے مجرموں کے بالعموم سرعام سرقلم کیے جاتے ہیں۔