ڈاکٹر ذاکر نائک کا میڈیا کے منھ پر طمانچہ
02:50PM Tue 26 Jul, 2016
میڈیا ٹرائل کے بعد ڈاکٹر ذاکر نائک نیوز چینل ’آج تک‘ سے خصوصی انٹرویو
ڈاکٹر ذاکر نائک نے اپنے اوپر لگائے گیے الزامات پر دی صفائی اورمیڈیا ٹرائل کو کردار کش بتایا
داعش اسلامک اسٹیٹ نہیں’اینٹی اسلامک اسٹیٹ‘: ڈاکٹر ذاکر نائک
مشہور اسکالر اور مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف گزشتہ دنوں میڈیا نے خوب کردار کشی تھی اور ان کے بیانات اور تقریروں کے پروپیگنڈہ کھڑا کردیا تھا۔اور بغیر کسی ثبوت ان کو دہشت گرد تک بنا ڈالا۔ دہشت گردی، داعش اور بنگلہ دیش حملہ ، پیس ٹی وی، طلاق ثلاثہ ، یکساں سول کوڈ جیسے حساس مسائل پر آج تک نے خصوصی بات چیت کی۔ پیش ہے انٹرویو کے کچھ اقتباساست:
انٹرویو کے اہم نکات: ۔ میڈیا کا غیر جانب دارانہ رویہ کردار کشی پر مبنی ۔ داعش ، غیر اسلامی تنظیم ۔ دہشت گردی کی اور خودکش حملوں کی مذمت ۔ ۔ میں آر این آئی ہوں، میڈیا کے بلانے پر ہندوستان نہیں آؤں گا ، جانچ ایجنسی کے بلانے پر آسکتا ہوں۔
۔ ان کی تقریروں کو سیاق وسباق سے ہٹاکر پیش کیا گیا ۔
مؤرخہ ۹ جولائی کو بنگلہ دیش میں ہونے والےدہشت گردانہ حملے کے ساتھ ہندوستانی میڈیا کے ذ ریعہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر دہشت گردی کے فروغ دینے اورنفرت پھیلانے جیسے سنگین الزامات لگائے گیے۔ بنگلہ دیش کے اخبار ’ڈیلی اسٹار‘ کی رپورٹ کو بنیاد بناکر ان پر اس قسم کے الزامات عائد کیے گیے ، حالاں کہ اس اخبار نے وضاحتی بیان شائع کرکے ذاکر نائک کو اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی، اس کے باوجود ہندوستان کا ٹی وی میڈیا ان پرلگاتار حملے کیے جارہا ہے۔ پچھلےدوروز قبل انھوں نے ٹی وی چینل ’آج تک‘ کو اپنا انٹرویو دیا، جس میں اپنے اوپر لگائے گیے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری میڈیا ٹرائل کو کردار کشی قرار دیا۔ ساتھ ہی کئی سوالات کے جواب میں انھوں نے چونکادینے والے دعوے بھی کیے۔
انھوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش حملے میں ملوث ایک شخص ان کا ایک فین بُرا ہوسکتا ہےلیکن ان کروڑوں لوگوں کو کیا کہاجائے گا جو سوشل میڈیا پر ان سے جڑے ہوئے ہیں، یا پیس ٹی وی پر ان کے پروگرام دیکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ فیس بک 1.40کروڑ فالوورز ہیں، جب کہ دنیا کے ستر (70) سے زائد ممالک میں 20کروڑ سے زائد افراد پیس ٹی وی پر ان کے پروگرام دیکھتے ہیں۔ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری تقریروں کے ساتھ سخت چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور ان کو سیاق وسباق سے الگ کرکے دانستہ طورپر غلط فہمی پیدا کرنے کی ناروا کوشش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائک نے ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے فروغ امن اور دنیا میں سلامتی کے استحکام کے لیے کام کرنے کی وکالت کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ صرف اسلامی تعلیمات پیش کرتے ہیں۔ اور اسلام میں انارکی یا دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ، بلکہ اسلا م اور دہشت گردی ندی کے دوکنارے ہیں جو کبھی بھی آپس میں نہیں مل سکتے۔
انھوں نے اپنے انٹرویو میں ’آئی ایس آئی ‘ کے بارے میں پوچھے جانےپر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی، اور اس کو ’اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘ کے بجائے ’ اینٹی اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘ قرار دیا۔
نفرت پھیلانے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری دوہزار سے زائد تقریریں ہیں، غیر جانب دارانہ طور پر راہ طورپر عوامی عدالت میں پیش کی جاسکتی ہیں ، میں دعوے کےساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس میں نفرت پھیلانے والا کو ئی مواد موجود نہیں ، اس کے بالمقابل پروین توگڑیا کی نفرت آمیز اور زہریلی تقریروں سے اپنے لکچرز کا موازنہ کرنے اور فیصلہ عوام پر چھوڑنے کے لیے کہا۔ انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ سچائی بتانا نفرت کو فروغ دینا نہیں۔
انھوں نےایک بات پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ میں آر این آئی ہوں اسی لیے اکثر باہر رہتا ہوں، میں میڈیا کے بلانے پر ہندوستان نہیں آسکتا، اگر جانچ ایجنسی مجھے بلاتی ہے تو میں بہ خوشی آنے کے لیے تیار ہوں، لیکن تاہنوز کسی جانچ ایجنسی نے مجھ سے رابط نہیں کیا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک بیشتر وقت دبئی میں گزارتے ہیں اس لیے کہ پیس ٹی وی کے پروگرام وہیں سے نشر کیے جاتے ہیں۔ اور انھوں نے پروپیگنڈہ کے ابتدائی دنوں میں ہندوستان آنے کی بات غلط فہمی دور کرنے کے مقصد سے کہی ، لیکن جب سچائی سامنے آگئی تو انھوں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔
پیس ٹی وی کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ اس کے پروگرام دنیا کے 70 سے زائد ممالک میں دیکھے جاتے ہیں، مگر کسی نے کوئی پابندی نہیں لگائی، ہندوستان کے بارے میں بتایا کئی بار انھوں نےمنظوری کی درخواست دی لیکن مسترد کردی گئی، مودی کے دورِ حکومت میں بھی انھوں نے پھر درخواست دینے کا عندیہ ظاہر کیا۔ انھوں نے مودی کے مسلم ممالک کے دورے میں خیرسگالی کا جذبہ کارفرما ہونےکی طرف اشارہ کیا۔ طلاق ثلاثہ اور یکساں سول کو ڈ کے بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا میں (شرعی علوم کا) اسکالر نہیں ، طلاق ثلاثہ پر دورائیں ہیںٖ، میری اپنی رائے کے مطابق ایک مجلس میں ایک ہی طلاق مناسب ہے۔ رہی بات یکساں سول کوڈ کی تو اسلام اس کا بہتر حل ہے، میں اسلام کے حق میں ہوں، تاہم اس پر مباحثے کے لیے پینل بنایا جاسکتا ہے۔
اس طرح ڈاکٹر ذاکر نائک اپنے اس حالیہ انٹرویو میں شفاف بیان دیا، اچھی بات یہ رہی کہ میڈیا نے تادم تحریر اس میں خرد برد کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، دراصل ذاکر نائک ایک کھلی کتاب ہیں، ان یہاں چھپانے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں ۔ ان کا مشن واضح ہے ۔ وہ تو امن وشانتی کے علمبردار ہیں، دہشت گردی کے خاتمہ میں ان کا اہم رول ہے۔ لیکن سیاسی اور مسلکی بنیاد پر ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ان سے انٹرویو لینے کی ضرورت ہی نہ تھی ۔