ڈاکٹر صغیر افراہیم کے افسانوی مجموعہ’’کڑی دھوپ کا سفر‘‘کے رسمِ اجراء کے حوالے سے مسرت کا اظہار
01:03PM Fri 24 Feb, 2017
ہلال ہاؤس نگلہ ملاح سول لائن علی گڑھ میں مخصوص نشست کا انعقاد
علی گڑھ ۔(بھٹکلیس نیوز)’گلشنِ ادب علی گڑھ‘‘ کی جانب سے ہلال ہاؤس نگلہ ملاح سول لائن علی گڑھ میں ایک مخصوص نشست میں معروف نقاد اور متعدد کتابوں کے خالق پروفیسرڈاکٹر صغیر افراہیم شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی تازہ کتاب اور افسانوی مجموعہ’’کڑی دھوپ کا سفر‘‘ کے رسمِ اجراء کے حوالے سے مسرت کا اظہار کیا گیا۔جس میں مختلف ادبی تنظیموں کے اراکین نے شرکت کی۔نشست کی صدارت ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے کی جب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر سرورؔ مارہروی شامل ہوئے۔نظامت کے فرائض انجینئر عادل فراز نے انجام دئے۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر ہلا ل نقوی نے پروفیسر صغیر افراہیم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ڈاکٹر صغیر افراہیم کا شمار موجودہ دور کے اہم نقادوں میں کیا جاتا ہے ۔انھوں نے خاص طور سے فکشن کو اپنی تنقید کے لئے چنا اس سلسلے سے ان کی متعدد کتابیں اور مضامین منظرِ عام پرآچکی ہیں ابھی کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کتاب شاعری کی تنقیدکے حوالے سے بھی آئی ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ان کا دائرہ صرف فکشن تک ہی محدود نہیں فی الوقت انھوں نے ایک افسانوی مجموعہ’’کڑی دھوپ کا سفر‘‘ اردو ادب کے حوالے کیا ہے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ تنقید نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین تخلیق کار بھی ہیں۔یقیناً ان کے افسانے اہلِ ادب کو متاثر کریں گے‘‘۔صدرِ نشست ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے اظہارِ مسرت کرتے ہوئے کہا کہ’’بہ یک وقت تنقید اور تخلیق کے تقاضے نبھانا آسان نہیں یہ اس کا کام ہے جو بنیادی طور پر تخلیقی صلاحیتوں کا مالک بھی ہو اور اُس کا مطالعہ بھی نہایت وسیع ہو میں ڈاکٹر صغیر افراہیم کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انھوں نے بہترین افسانے تخلیق کئے ہیں‘‘۔ڈاکٹر سرورؔ مارہروی نے کہا کہ’’جہاں جہاں اردو بولی یا پڑھی لکھی جاتی ہے وہاں وہاں پروفیسر صغیر افراہیم صاحب کو بحیثیت ماہرِ پریم چند جانا جاتا ہے لیکن انھوں نے ’’کڑی دھوپ کا سفر‘‘ لکھ کر ثابت کیا ہے کہ ایک اچھا نقاد ایک اچھا تخلیق کار بھی ہو سکتا ہے‘‘۔بزمِ نویدِ سخن علی گڑھ کے جنرل سکریٹری سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی نے کہا کہ’’ڈاکٹر صغیر افراہیم میرے استاد ہیں شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا خاص طور سے آپ ایک خوش مزاج اور مشفق استاد ہیں اس لئے آپ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جا سکتا آپ نے ’’کڑی دھوپ کا سفر‘‘ لکھ کر ایسے طلباء کو بھی راہ دکھائی ہے جو تخلیق اور تنقید کو الگ الگ مانتے ہیںیقیناًاس سلسلے سے کتاب کی مرتب پروفیسر سیما صغیر صاحبہ بھی قابلِ مبارک باد ہیں کہ انھوں نے صغیر صاحب کے افسانے ترتیب دے کر ادب میں اضافہ کیا‘‘۔انجینئر عادل فرازؔ نے کہا کہ’’ریڈیائی افسانے لکھناآسان نہیں اس کے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں یقیناً پروفیسر صغیر صاحب ان تمام تقاضوں پر کھرے اُترتے ہیں‘‘۔آخر میں ڈاکٹر ہلال نقوی نے شرکائے نشست کا شکریہ ادا کیا۔نشست میں شامل ہونے والوں میں اظہارؔ نقوی،ضیغمؔ زیدی،جے آر روشنؔ ،نسیم طیب،رئیس الحسن،اودھیش کمار،مبارک علی،محسن مظفر نگری اور تصویر سمبھلی پیش پیش رہے۔