آڈیو ٹیپ کیس میں بی جے پی لیڈر بی ایس یدی یورپا کو ہائی کورٹ نے دیا عبوری اسٹے
01:52PM Fri 22 Feb, 2019
بی جے پی کرناٹک یونٹ کے صدر بی ایس یدی یورپا کیلئے گلبرگہ سے راحت کی خبر ملی ہے۔ کرناٹک ہائیکورٹ کی گلبرگہ بینچ نے آڈیو ٹیپ معاملہ میں بی جے پی کے ریاستی صدر کو عبوری اسٹے دیدیا ہے۔ جسٹس پی جی ایم پاٹل نے جمعرات کو معاملہ کی سماعت کی تھی اور فیصلہ جمعہ تک محفوظ کر دیا تھا۔ جمعہ کو جسٹس پاٹل نے یدی یورپا کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عبوری اسٹے دیا۔
یدی یورپا کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے دیگرتین لیڈران کو بھی راحت ملی ہے۔ حلقہ اسمبلی گرمٹکل کے جے ڈی ایس ایم ایل اے ناگن گوڈا کندکور کے فرزند شرن گوڈا نے یہ کیس دائر کیا تھا۔ بی ایس یدی یورپا کے وکیل نے عدالت کے روبرو واضح کیا کہ زیر سماعت معاملہ رشوت ستانی کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔ وکیل دفاع نے کہا کہ یدی یورپا کی بات چیت انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے دائرے میں بھی نہیں آتی۔ یدی یورپا کے وکیل کے مطابق بی جے پی صدر نے صرف اتنا کہا ہے کہ اگر جے ڈی ایس ایم ایل اے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو ان کے دوبارہ انتخابات کے اخراجات بی جے پی برداشت کرے گی۔
دوسری جانب ایڈو کیٹ جنرل سندیش چوتھا نے دلیل دی کہ عوامی منتخب نمائندوں کو پیسوں کی پیشکش کرنا اور مستعفی ہونے کیلئے کہنا ایک جرم ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے معاملہ کی مزیدپولیس جانچ کی اپیل کی۔ جسٹس پاٹل نے دونوں فریقین کی سماعت کے بعد ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا اور یدی یورپا کو عبوری اسٹے دیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آٹھ فروری کو وزیر اعلی کماراسوامی نے میڈیا کے روبرو ایک ٹیپ جاری کیا تھا، جس میں شرن گوڈا کندکور اور بی ایس یدی یورپا کے درمیان ہوئی بات چیت ریکارڈ تھی۔ جس میں یدی یورپا مبینہ طور پر شرن گوڈا کو حکومت گرانے کیلئے اپنے ایم ایل اے والد کورضامند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس کے عوض کروڑوں روپیوں کے علاوہ وزارت بھی شامل ہے۔
اس آڈیوٹیپ کے منظر عام پر آنے کے بعد ریاست کی سیاست میں کافی ہلچل مچی تھی۔ کانگریس اور جے ڈی ایس نے بی جے پی پر ہارس ٹریڈنگ اور حکومت کو گرانے کا الزام عائد کیا تھا۔ آڈیوٹیپ کے منظر عام پر آنے کے بعد بی جے پی ایک دم بیک فٹ پر نظر آ ئی تھی۔ معاملہ کی سنگینی کے بعد ریاستی حکومت نے آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کیلئے 15 فروری کو ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔