بشار الاسد کی حمایت کی قیمت: شام میں ایک اور ایرانی جنرل ہلاک

01:49PM Sat 6 Feb, 2016

ایران کی جانب سے شام میں بشار الاسد کی فوجی امداد میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ مگر دوسری طرف ایران اس حمایت کے باعث مسلسل نقصان بھی اُٹھار ہا ہے۔ شام میں ایران کے فوجی افسران کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شام کے شہر حلب میںصدر بشارالاسد کے وفادر فوجیوں اور ایران کے حمایت یافتہ مختلف جتھوں کی عسکری رہنمائی کے لئے موجود ایک اور ایرانی جنرل بھی ہلاک ہو گیے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے "فارس"کے مطابق شام کے شورش زدہ شمالی شہر حلب میں "داعش"کے حملے میں ایک سینیر ایرانی فوجی افسر بریگیڈ جنرل محسن قاجاریان ہلاک ہو گیا ہے۔ جنرل قاجاریان کی ہلاکت پر بری فوج کے سربراہ جنرل محمد باکبور نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتول جنرل قاجاریان آرمرڈ فورسز کے بریگیڈ امام الرضا کے سربراہ تھے اور انہیں حال میں ہی شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے فوجیوں کی عسکری رہنمائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بریگیڈیئر جنرل قاجاریان کی ہلاکت کی اطلاع ایرانی وزارت انصاف کی آفیشل ویب سائیٹ پر بھی جاری کر دی گئی ہے۔جنرل قاجاریان کی ہلاکت سے چند روز قبل حلب شہر میں ایرانی فوج کے چھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ جن میں ایک شیعہ مذہبی مبلغ اور ایک سینیر فوجی افسر شامل تھے۔ شام کے بحران پر نظر رکھنے والے عالمی ماہرین کے مطابق ایران بشار الاسد کی حمایت میں بہت بھاری قیمت ادا کررہا ہے۔سعودی عرب ایران کےاسی کردار کو شام کے تنازع کا اصل سبب قرار دیتا ہے۔ واضح رہے کہ شام میں بشارالاسد کی حمایت میں ایران نے نہ صرف اپنی فوج اُتا رکھی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایران نے افغانستان اور پاکستان سے اُجرتی قاتل بھی اکٹھے کرکے اس بحران میں جھونک رکھے ہیں۔