فی الحال ڈی این ڈی رہے گا ٹول فری، سپریم کورٹ کا الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگانے سے انکار

03:53PM Fri 28 Oct, 2016

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی۔ نوئیڈا۔ دہلی (ڈی این ڈی) فلائی اوور کو ٹول فری کرنے کے حوالے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے سے آج انکار کردیا۔ عدالت عظمی نے کہا کہ ڈی این ڈی فلائی اوور اگلے حکم تک ٹول فری رہے گا۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کی تفصیلی سماعت دیوالی کی چھٹی کے بعد کرے گا۔ چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے ڈی این ڈی بنانے والی کمپنی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے صرف 10 کلومیٹر سڑک بنائی ہے لیکن آپ باتیں تو ایسی کررہے ہیں کہ آ پ نے چاند پر جانے کا راستہ بنایا ہو ۔ ڈی این ڈی پر روڈ ٹیکس وصول کرنے والی کمپنی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ۔ کمپنی کی طرف سے سینئر وکیل شیام دیوان نے کل جسٹس انل آر دوے کی صدارت والی بنچ کے سامنے معالے کا خصوصی ذکر کیا تھا اور فوراً سماعت کی درخواست کی تھی جسے بنچ نے قبول کرتے ہوئے سماعت کے لئے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔
اس سے قبل بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈی این ڈی فلائی اوور کو ٹول فری کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران سخت لہجہ میں کہا تھا کہ نوئیڈا ٹول برج کمپنی لمیٹیڈ من مانے طریقے سے روڈ ٹیکس وصول کررہی ہے۔ کمپنی کی اس من مانی کے خلاف گزشتہ چار سال سے کوشش جاری تھی۔ عدالت میں ڈی این ڈی کو ٹول فری کرنے کے سلسلے میں کئی عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ نو کلومیٹر طویل آٹھ لین والے ڈی این ڈی کو ٹول فری کروانے کے لئے دہ ماہ قبل بھی کئی تنظٰموں نے زبردست مظاہرہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ فروری 2001 میں شروع ہوا ڈی این ڈی پر ٹول ٹیکس بڑھ کر پانچ گنا ہوچکا ہے ۔ فلائی اوور پر موٹر سائکل سے گزرنے کے لیے 12 روپے دینے ہوتے ہیں جبکہ کار سے گزرنے پر 28 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔یہاں سے روزانہ 25 ہزار سے بھی زائد گاڑیاں گزرتی ہیں۔