ہند ۔ پاک کے درمیان اپریل کے آواخر میں بات چیت کے امکانات 

04:23PM Mon 2 Jan, 2017

نئی دہلی۔، (بھٹکلیس نیوز)مارچ کے آخری ہفتہ اور اپریل کے اوائل میں بھارت پاکستان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے امریکی خارجہ ترجمان نے کہاکہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک اپنے مسائل گفت شنید کے ذریعہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت کو فروغ دینے اور دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے اقدامات اُٹھائے گی۔مرکزی حکومت بھی ریاست میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ ہند نواز سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غورو فکر کر رہی ہے ۔ذراائع کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا انکشاف کیا کہ بھارت پاکستان کے درمیان اپریل کے اوائل میں سرکاری سطح پر بات چیت ہو سکتی ہے اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت نے رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔ترجمان کے مطابق بھارت پاکستان کو نزدیک لانے اور بات چیت کو یقینی بنانے کے لئے کو ششیں بار آور ثابت ہو رہی ہے ۔ واشنگٹن میں برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار کو انٹرویو ں دیتے ہوئے خارجہ ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنوبی ایشاء کی دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان کشیدگی اورتناؤ کم کرنے اور انہیں میز پر لانے کیلئے درپردہ کوشیں جاری ہیں۔ترجمان نے کہاکہ خطے میں پیچیدہ اور اہم نوعیت کے مسائل ہیں تاہم پہلے خطے میں اعتمادسازی کو بحال کرنے کشیدگی اور تناؤ کے ماحول کو کم کرنے اور نزدیک لانے کی ضرورت ہے ،امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ملک میں حکومت بدلنے اور انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہونے کے باوجود کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی انتظامیہ کی بھی یہی کوششیں رہیگی کہ اگر بھارت اور پاکستان کسی تیسرے ملک کو اپنے پیچیدہ اور دیریانہ مسائل حل کرنے کیلئے آگاہ کریں گے تو اس صورتحال میں ثالثی کی جا سکتی ہے ،بصورت دیگر دونوں ملکوں کی رضا مندی کے بغیر کوئی بھی ملک بھارت پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا ہے تاہم دونوں ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنے کی بھر پور کوشش کی جائیگی کہ وہ اپنے مسائل کو پُر امن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں ۔ امریکی سٹیٹ ترجمان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پچھلے تین برسوں سے بھارت پاکستان کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ ہوئے ہیں ۔ سیاسی قیادتوں نے سنجیدگی کے ساتھ ماحول کو ساز گار بنانے کی طرف توجہ نہیں دی ۔ دونوں ممالک میں ایسی طاقتیں ہیں جو بھارت پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات نہیں چاہتے ہیں تاہم ان طاقتوں کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی ہے۔ ادھر سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کی جا نب سے کشمیر کی صورتحال پر پیش کی گئی رپورٹ کے بعد مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست میں امن و امان کو بحال کرنے تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے اور ماحول کو سازگار بنانے کیلئے مزاحمتی قیادت سمیت دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کی جائیگی ۔ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے قریبی ذرائع نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست میں امن قائم کرنے اور اسکے حل کرنے کیلئے پہلے ماحول کو سازگار بنایا جائیگا ۔ ریاست کے لوگوں کو کئی طرح کے مشکلات کا بھی سامنا ہے جن کا ازالہ کرنے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر کارروائی عمل میں لائی جا ئیگی ۔ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت سچر کمیٹی ،رنگاراجن کمیٹی ،سابق مذاکرات کاروں کی جانب سے پیش کی گئی ۔ تمام سفارشات کا باریک بینی سے جائیزہ لینے کے علاوہ پی ڈی پی ،جی جے پی مشترکہ پروگرام کو بھی مدنظر رکھ کر اپنے پتے کھولنا چاہتی ہے ۔ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے کم سے کم دوبجلی پروجیکٹ جون کے آخر تک ریاستی حکومت کو سونپ دینے کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر رہی ہے جبکہ جموں اور سرینگر کو سمارٹ شہروں کا درجہ دینے کا بھی اعلان کرنے کے بارے میں فیصلہ لے سکتے ہیں