انتخابات میں کالے دھن کے استعمال پر نہیں ہوا نوٹ بندی کا اثر: سابق الیکشن کمشنر

01:36PM Mon 3 Dec, 2018

سابق چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اوپی راوت نے اعتراف کیا ہے کہ نوٹ بندی کا کوئی بھی اثر انتخابات کے دوران دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ اوپی راوت نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ انتخابات میں کالے دھن کا استعمال بند ہو جائے گا، لیکن ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے فائنانسروں کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انتخابات میں جس طرح پیسے کا استعمال ہو رہا ہے وہ کالا دھن ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر اوپی راوت نے کہا کہ ہم نے پانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابات کے دوران بھی 200 کروڑ روپئے کی ریکارڈ رقم ضبط کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات کے دوران جس سورس سے پیسہ انتخابات میں آ رہا ہے وہ بہت مؤثر ہے اور نوٹ بندی کا اس پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔
 چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر فائز رہے اوپی راوت 1 دسمبر، 2018 کو ریٹائر ہو گئے اور ان کی جگہ سنیل اروڑہ کو نیا چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا ہے۔
بتا دیں کہ 8 نومبر، 2016 کو مرکزی حکومت کی طرف سے نوٹ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے تحت 500-1000 روپے کے پرانے نوٹوں کا چلن بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران دعوی کیا گیا تھا کہ ایسا کرنے سے جعلی نوٹ، کالا دھن اور دہشت گردی پر لگام لگے گی، اگرچہ بہت سے رپورٹوں میں بتایا گیا کہ نوٹ بندی سے ایسا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور کالا دھن دوبارہ سسٹم میں آ گیا ہے۔