کرناٹک کو موسوہاردا ویدیکے اور ٹیپو سلطان یو نائٹیڈ فرنٹ کے اشتراک سے کل شیر میسور کا 218 واں جلسۂ یوم شہادت
03:44PM Wed 3 May, 2017
بھٹکلیس نیوز / 03 مئی،2017
بنگلورو/ (راست) شہر گلستان دار السرور بنگلور کے قلب میں ٹیپو سلطان سمر پیالیس میں معمول کے مطابق کل صبح 9 بجے معروف تاریخ داں آہندہ کے جناب این وی نرسمہیا اور اُدھر شری رنگا پٹن کے مقام شہادت پر مجاہد آزادی جناب ایچ ایس دورے سوامی تصویر سلطانی پر گلہائے عقیدت نچھاور کرنے کے ساتھ جلسے کا آغاز کریں گے۔ اور دوپہر بارہ بجے جلوس کے بعد بمقام دسہرہ وستو پردرشن میدان ایم جی روڈ، میسور میں شاندار جلسے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ٹیپو سلطان یونائٹیڈ فرنٹ اور کوموسوہاردا ویدیکے کے مطابق جس میں ریاست کے سرکردہ مذہبی، ادبی، سیاسی، رہنماؤں کو مدعو کیا گیاہے۔ انہوں نے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 4؍ مئی 1799 ، دوپہر میں مجاہد آزادی اول کی شہادت ہی سے آزادی کی لڑائی شروع ہوچکی تھی۔ اور 1974 میں اختتام پذیر ہوئی۔ قبل 18 ویں صدی میسور کی پہلی جنگ سے ہی نواب حیدر علی خان بہادر نے اس کا آغاز کردیا تھا۔ میسور کی دوسری جنگ میں باپ کے شانہ بہ شانہ ٹیپو سلطان دادا شجاعت دکھا چکے تھے۔ اپنے بہادر والد کی وصیت کے مطابق سلطان نے صرف میسور ریاست سے نہیں بلکہ پورے ملک سے انگریزوں کو نکال باہر کرنے کا بیڑا اٹھایا ، اس کے لئے انہوں نے پڑوس کی سبھی ریاستوں جو آپس میں اختلاف کا شکار تھیں سب متحدہ کرنے کی انتھک کوششیں کیں۔ بیرونی حکومتوں کو بھی خطوط لکھے۔ ’’پھوٹ ڈالو راج کرو ‘‘ پالیسی اختیار کرنے والے انگریز عزم سلطانی خوفزدہ ہوچکے تھے۔ برصغیر میں اب ان کا ایک ہی جانی دشمن تھا، وہ تھے مردِ مجاہد ٹیپو سلطان شہید ؒ ، تو انگریزوں نے کل ہندوستان پر برطانوی حکومت کی دوستی کے عوض سلطنت خداداد کی حکمرانی کو تسلیم کرناچاہا۔ مگر سلطان نے اسے غیر اخلاقی غلامی سے تشبیہ دیتے ہوئے برطانوی سامراجیت کی پیشکش کو ٹھکرادیا۔ نتیجتاً 1791 میں میسور کی تیسری جنگ جو کہ کنک پور شہر بنگلور تک لڑی گئی سلطان کو اس جنگ میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ نمک حرام میر صادق جیسے عیار، غدار انگریزوں کے وفادار بن گئے۔ اور تاوانِ جنگ کی صورت میں آدھا ملک اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپئے بطور ہرجانہ ادا کرنا پڑا۔ خزانے میں صرف آدھی رقم موجود تھی، بقیہ آدھی رقم ادا کرنے تک اپنے دو جگر کے تکڑوں کو آزادی وطن کی خاطر سلطان نے انگریزوں کے پاس بطور یرغمال رکھا۔ نمک حرام میر صادق نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شراب نوشی کو ریاست میں عام کرنے کے ساتھ اس سے ہونے والی سرکاری آمدنی سے رہن شدہ بچوں کو رہا کروانے کا مشورہ دیا۔ تو سلطان نے کہا کہ ارے کم بخت میں اپنے بچوں کی خاطر رعایا کو دھوکہ دینا نہیں چاہتا۔ آگے چل کر میسور کی چوتھی جنگ میں سلطان ایک سپاہی کی طرح میدانِ کارزار میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرماگئے۔ سلطان کی شہادت وطن پرست کا روشن باب ہے۔ جنم دن کی طرح اسے بھی ریاست بھر میں تمام محبان شہید کو احترام سے منانے کی ضرورت ہے۔ جو کہ کرناٹک کوموسوہاردا ویدیکے اور ٹیپو سلطان یونائٹیڈ فرنٹ نے اس خدمت کی پہل کو انجام دیاہے۔ اس پریس کانفرنس میں بام سیف کے محمد اقبال، کرناٹک ریتا سنگھا کے صدر ، کوموسوہاردا کے صدر کے یل اشوک، اور ٹف کے جنرل سکریٹری داؤد اقبال بھی موجود تھے۔