میسور میں ایس ڈی پی آئی کی عوامی مہم 'ہجومی قتل کے خلاف مزاحمت' کا آغاز
03:43PM Tue 8 Aug, 2017
میسور ( بھٹکلیس نیوز) ) ۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی ملک گیر عوامی مہم 'ہجومی قتل کے خلاف مزاحمت 'کے ایک حصے کے طور پر ریاستی جنرل سکریٹری عبداللطیف کی صدارت میں میسور ، ادیاگری میں مہم کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے تقریر میں کہا کہ آج ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے۔ ملک کو آئین کے تحت چلانے کے بجائے کسی ایک خاص مذہب کے نظریے کو عوام پر تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک منظم سازش کے تحت ملک کے دلتوں اور مسلمانوں پر کھلے عام حملے ہورہے ہیں۔ گؤرکشا کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والے دہشت گرد ملک کے معصوم شہریوں کو 'جئے شری رام 'اور بھارت ماتا کی جئے 'بولنے پر مجبور کرکے انہیں مارا پیٹا جارہا ہے۔ ان حالات کے مدنظر ایس ڈی پی آئی 1تا 25اگست ملک گیر سطح پر عوامی مہم کا انعقاد کرکے ان ہجومی قتل اور حملوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے عوام میں بیداری لارہی ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں چاہتی ہیں کہ عوام ان حملوں سے ڈر کر ہندوتوا ایجنڈے کو قبول کرلیں، ان فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام کرنے کے مقصد سے ہی ایس ڈی پی آئی اس عوامی مہم کا انعقاد کررہی ہے۔ نیز عوام کو ڈر اور خوف کے ماحول سے نکال کر ان دہشت گردوں کا دفاع کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ اس موقع پر SDTUکے ریاستی صدر آلو ملانا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایس ڈی پی آئی کی اس مہم میں دلت اور پسماندہ طبقات بھی جڑے ہوئے ہیں جو کہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا SDPIکے اس ملک گیر عوامی مہم کی وجہ سے ریاستی و مرکزی حکومتیں جاگیں گی اور گؤ رکشا کے نام پر انسانوں کا قتل کرنے والوں پر سخت سے سخت کارروائی کرے گی۔ اس موقع پر ریاستی سکریٹری افسر کوڈلی پیٹ ، پاپولرفرنٹ کے ضلعی صدر امین سیٹھ موجودرہے۔