مسلمانوں کو حالات سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ علماء اور اجتماعیت سے دوری مسلمانوں کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے ؛ مولانا عبدالعلیم ندوی صاحب کا عید کی دوگانہ کے بعد ولولہ انگیز خطاب
02:46PM Wed 5 Jun, 2019
ہزاروں فرزندان توحید نے بھٹکل عیدگاہ میں ادا کی عید کی نماز
بھٹکل: 5 جون،2019 (بھٹکلیس نیوز بیورو) ’’آج مسلم دشمن طاقتیں ہمارا وجود مٹانا چاہتی ہیں اس لیے وہ مسلمانوں کو اجتماعی قیادت اور علماء سے بدگمان کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کبھی وہ اداروں میں تشکیل قیادت پر بدگمانی پیدا کرتی ہے کبھی اسلامی تعلیم گاہوں اور عقیدوں کے بارے میں پروپیگنڈہ پھیلا کر ہمارے اتحاد کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اگر ہم نے ہمارے اداروں سے بغاوت کی تو ہمارا تشخص باقی نہیں رہ سکتا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دین کا وجود عملی طور پر اس وقت تک باقی رہے گا جب تک امت علماء سے جڑی رہے گی۔ جس دن امت علماء اور اجتماعیت سے دور ہوگی اس دن سے اس کی بربادی کا آغاز ہوگا۔‘‘ ن خیالات کا اظہار امام و خطیب جامع مسجد بھٹکل مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے کیا وہ آج عید الفطر کی دوگانہ کے بعد بھٹکل عیدگا میں ہزاروں مسلمانوں سے مخاطب تھے۔
مولانا نے کہا کہ عید اللہ کی طرف سے انعام ہے۔ ہم نے رمضان میں اللہ کے لیے صبر کیا اور قربانی دی جس کے بدلے میں ہمیں یہ عید اور خوشی عطا کی گئی ہے۔ جس طرح ہم نے رمضان میں اللہ کی عبادت کی تھی اسی طرح ہمیں رمضان کے بعد بھی کرنا ہے اس لیے کہ رمضان میں عبادت کرنے سے اللہ کو جس طرح خوشی ہوئی تھی اسی طرح رمضان کے بعد بھی اللہ کو خوشی ہوتی ہے۔
ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محترم نے کہا کہ ہمارے ملک کے جوحالات ہیں ہم سب اس سے واقف ہیں لیکن ہم مسلمان ہیں اس لیے ہمیں کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے اس لیے کہ مسلمان کبھی تکلیفات اور مصیبتوں سے نہیں گھبراتا۔ اسلام کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں پر ایسے حالات آتے رہیں، حالات اللہ کے حکم سے آتے ہیں چاہے وہ موافق ہوں یا مخالف ہوں۔ ایسے حالات میں ہمیں اللہ کے حکم پر جمے رہنا چاہئے کیوں کہ حالات کے سامنے ڈگمگانا مسلمانوں کی شان نہیں، تمام حالات کو اللہ کی منشاء سمجھ کر خوش دلی سے اس کو قبول کرنا چاہئے اور اللہ کے حکموں کے مطابق اپنی زندگی کو عملی طور پر ڈھال لیناچاہئے۔
مولانا نے ملک کے تعلق سے کہا کہ یہ ملک ہمارا ملک ہے اس کو سونے کی چڑیا مسلمان بادشاہوں نے بنایا ہے اس کی مثال یہاں کی تاریخی عمارتیں اور ان بادشاہوں کی قبریں ہیں جو انہوں نے اس ملک سے محبت کی وجہ سے یہاں بنائیں انہوں نے کبھی اسے غیر نہیں سمجھا ہمیشہ اپنا سمجھا اگر وہ اس طرح سوچتے تو تاج محل اور اس جیسی عمارتوں کو کسی اسلامی ملک میں بناتے۔
مسلمانوں بادشاہوں کی روداری اور امن دوستی کی دلیل دیتے ہوئے مولانا موصوف نے کہا کہ اس ملک پر 800 سال مسلمانوں نے حکومت کی ہے اگر وہ زبردستی کسی کو مسلمان بناتے تو یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہوتی۔ مولانا نے مختلف مثالوں کے ذریعہ کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اس ملک سے محبت کی ہے اور آج بھی اگر کوئی اس ملک کو غلط نگاہوں سے دیکھے گا اور ایہاں کے امن اور محبت کو ختم کرنا چاہے گا تو سب سے پہلے اس کی حفاظت کے لیے آگے بڑھنے والے مسلمان ہونگے۔
مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی صاحب نے آخر میں مسلمانان عالم کو عید الفطر کی مبارکباد دی اور اس ملک کی ترقی کے لیے آگے بڑھنے کی درخواست کی۔
اس موقع پر فرزندان توحید ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔