وزیر اعظم بیان نہ دیکر اقلیتوں کے لیے عملی اقدامات کریں : مولانا ارشد مدنی

01:07PM Thu 28 May, 2015

بھٹکلیس نیوز / 28 مئ، 15 نیو دہلی / (ایجنسی) ملک کے کسی بھی طبقہ کے ساتھ امتیازی سلوک برتے جانے اور تشدد برپا کرنے کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ناقابل برداشت عمل قرار دیا ہے، جس پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی جو ان دنوں تبلیغی و اصلاحی دورے پر ملک سے باہر ہیں اپنا شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے واضح انداز میں کہا کہ بار بار ایک ہی بیان دینے سے ملک کے ۲۵؍ کروڑ مسلمانوں کے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں اور نہ ہی فرقہ پرستوں پرلگام لگائی جا سکتی ہے ۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ آر ایس ایس اور اس کی حواری تنظیموں کے لیڈر ہی نہیں بلکہ وزیراعظم کی پارٹی اور کابینہ کے ساتھی بھی مسلسل زہر افشانی کررہے ہیں لیکن وزیراعظم خاموش ہیں ۔ ایسے میں کیسے یہ یقین کرلیا جائے کہ وزیراعظم کے بیانات میں کوئی حقیقت ہے۔مولانامدنی نے کہا کہ ابھی حال ہی میں کھٹر سرکار کی ناک کے نیچے جس طرح سے فرقہ پرستوں نے عدالت عالیہ کے حکم نامہ کے باوجود مسجد کی حرمت کو پامال کیا اور مسلمانوں کو زندہ جلانے کی کوشش ہوئی کیا وزیراعظم اس سے لاعلم ہیں ؟ مولانا نے کہا کہ مسلمان ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق اپنی مسجد بنار ہے تھے ، لیکن فرقہ پرستوں نے منصوبہ بند طریقہ سے مسجد پر حملہ کیا ، لنٹر کو گرا دیاگیا ، مسلمانوں کے گھروں کو نشان زد کرکے آگ لگائی گئی اور لوٹ مار کا باز ار گرم کیا اور خوف زدہ مسلمانوں کو تھانہ میں جاکر پناہ لینی پڑی ۔ انصاف کا عالم یہ ہے کہ نام زد ایف آئی آر کے باوجود ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ۔ آخر یہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی یا امتیاز نہیں تو ا ور کیا ہے؟ جبکہ سچائی یہ ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کیلئے ہریانہ وقف بورڈ نے بھی جو کی حکومت کا ہی ادارہ ہے دو لاکھ کی امداد فراہم کی تھی ۔ اس افسوسنا ک واقعہ پر وزیراعظم کی خاموشی اندر کی کہانی بیان کردیتی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں فرقہ پرست عناصر نے جس انداز سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ صرف دہلی میں اب تک کئی چرچوں کو فرقہ پرست عناصر نشانہ بناچکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی مختلف ریاستوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر منظم حملے کیے گئے جس سے ملک کی اقلیتوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے ۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کی بی جے پی حکومت میں جس قسم کی زہر افشانی ہوئی ہے وہ بھی ایک قسم کا تشدد ہے لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس کے خلاف موجودہ حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی ۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں شامل مرکزی وزراء کی جانب سے نفرت انگیزی کی گئی اور یہاں تک کہا گیا کہ مسلمانوں کو پاکستان بھیجا جائے گا ،آر ایس ایس کے چیف ہندو راشٹر بنانے کی بات کر رہے ہیں ،لو جہاد اور گھر واپسی کی مہم چلائی جا رہی ہے ،مسلمانوں سے ووٹ دینے کا حق چھیننے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے لیکن وزیراعظم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ خبر یہ ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں کھڑکتا ۔مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی طبقہ کے ساتھ امتیازی سلوک اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور دوسری طرف ان کی پارٹی کے صدر امت شاہ یہ کہہ رہے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ۳۷۰؍ سیٹیں درکار ہیں ، اوروزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے جب سادھو سنتوں نے ملاقات کے دوران رام مندر کی تعمیر کے لئے زور ڈالا تو انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ اگر یہ ملک میں پوری طاقت سے آ گئے تو ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی ۔مولانا مدنی نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کا یہ اعلان کہ جاٹوں کے ریزرویشن کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے،اور مہاراشٹرا میں مسلمانوں کے لئے تعلیمی ریزرویشن کے منظوری کے بعد بھی اسے اسمبلی میں نہ لانا،اور مراٹھا ریزرویشن کو باقی رکھنا کیا یہ ساری چیزیں ان کے بیان سے مطابقت رکھتی ہیں؟ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ایسی صورت حال میں وزیر اعظم کا محض خوش کرنے والا بیان کیا معنی رکھتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کو ملک کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے ،اس کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ملک ترقی کرے اور ملک میں امن و امان قائم رہے کیونکہ اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔انھوں نے کہا کہ ہمارا کہنا ہے ملک کا وزیر اعظم سب کا ہوتا ہے اور اگر اس نیت سے وزیر اعظم نے بیان دیا ہے تو پھر انھیں عملی اقدامات کرتے ہوئے انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل لانا چاہئے اور فرقہ پرستی پر لگام لگانے کے لیے سخت قانون بنانا چاہئے ۔اس کے ساتھ ہی وزیراعظم کو مسلمانوں کو ریزرویشن دینا چاہئے تاکہ ان کی حالت بہتر ہو اور وہ قومی دھارے میں شامل ہو سکیں ۔