ڈاکٹر اے پی جے عبدلکلام میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام سلطان ٹیپو شہید رحمہ کی 218 ویںیوم شہادت

02:17PM Sun 21 May, 2017

بنگلور:(بھٹکلی نیوز ) یہاں جم اسکول آڈیٹوریم آرٹی نگر بنگلور شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید کی ۲۱۸ ویں یوم شہادت پر اک اجلاس منعقد تھا ۔ تلاوت کلام مقدس قرآن مجید سے اجلاس کا آغاز ہوا ۔اس کے بعد مدعو شاعر جناب عبدلعزیز داغ نے اپنا منظوم کلام بطور نذرانہ عقیدت ٹیپو پر پیش فرمایا جس کا تمام سامعین اجلاس و محبان ٹیپو نے بڑی ہی گرم جوشی سے سماعت کرتے ہوے خوب داد و تحسین فرمائی جس کے دو شعر اس طرح ہیں ۔ وفا ہے پیار ہے انصاف ہے سلطاں کی مٹی میں ۔وہ دہشت دھونڈتے ہیں کیوں بھلا ایماں کی مٹی میں ۔وطن کے واسطے قربان ہوئے ہیں ہم بھی ائے لوگوں۔ہمارا خون بھی شامل ہے ہندوستاں کی مٹی میں ۔ اس کے بعد اجلاس کے مہمان خصوصی جناب کریم الدین صاحب محقق و تاریخ داں حضرت ٹیپو شہید جنہیں خصوصیت سے ٹیپو کی سرزمیں سری رنگا پٹن سے مدعو فرمایا گیا تھا نے اظہار خیال فرماتے ہوے اپنے خطاب میں چند چونکادینے والے انکشافات کرکے سامعین اجلاس مرد وخواتین کو متعجب و حیرت زدہ کرڈالا آپ کریم الدین صاحب نے بتیایا کہ سلطان ٹیپو نے اپنے دور حکمرانی میں ہندوءں کے مندروں کو جو وظیفہ گرانٹ بحیثیت اک حکمراں کے جاری فرمایا تھا وہ ان کے وزیر اعظم پورنیہ پنڈت کے تصدیق نامہ کے مطابق ایک لاکھ چھبیس ہزار پگو ڑے ہوتے ہیں اور اس کے مقابل مسلمانوں کو جو گرانٹ آپ سلطان ٹیپو کے سرکاری خزانے سے جاری ہوتا تھا وہ صرف چھبیس ہزار پگوڑے ہوتا تھا اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیپو سلطان نہ صرف اک غیر متعصب حکمراں تھے بلکہ اک انصاف پسند منتظم بھی تھے ! آپ پروفیسر کریم الدین صاحب نے انتہائی افسوس کا اظہار فرماتے ہوے بتایا کہ ایسے غیر جانبدار شخص کو آج فرقہ پرست اور متعصب قرار دینے کی مذموم کوشش جاری ہے ! آپ پروفیسر کریم الدین صاحب نے اس موقعہ یہ بات بھی بتائی کہ آج جو تاریخ پڑھائی جارہی ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور بالکل بوگس ہے !دوران خطاب آپ نے اس بات کا بھی انکشاف فرمایا کہ کورگ علاقہ سے سری رنگا پٹن لائے گئے باغیان سلطنت خداداد کو ٹیپو سلطان نے کبھی بھی جبری طور پر تبدیلی مذہب نہیں کروایا بلکہ وہ لوگ خود ہی ٹیپو سلطان کی انصاف پروری اور رواداری کے قائل ہوتے ہوئے مسلمان ہوگئے تھے اس واقعہ کو لیکر کچھ لوگ سلطان ٹیپو کو بدنام کرتے ہے جو سراسر اک لغو اور من گھڑت الزام ہے ۔ اجلاس کے دوسرے مقرر جناب انیس الحق سابق ڈائریکٹر دور درشن کیندرا بنگلور نے سلطان ٹیپو کے متعلق دوران خطاب فرمایا کہ انگریزوں نے آپ شہید پر سب سے زیادہ تحقیق فرمائی اور دنیا کے سامنے اس کو پیش کیا ! ہم ہندوستانیوں نے نہیں ! آپ انیس صاحب نے بتایا کہ محمود خان محمود نے سلطنت خداداد جو سلطان ٹیپو اور حیدر علی کے واقعات پر مشتمل صحیح اور سچی تاریخ کا درجہ رکھتی ہے لکھی تو یہاں اس کتاب کو کسی نے شائع نہ کیا لیکن یہ مشہور کتاب لاہور سے شائع ہوئی اور اس کو شائع کرنے والے کوئی اور نہیں شاعر مشرق کہلوانے والے مفکر اسلام علامہ اقبال تھے جنھوں نے عوامی چندہ طلب کرکے اس کتاب کے اخراجات اداکئے !پھر آزادی وطن کے بعد مذکورہ کتاب یہاں بنگلور سے بھی شائع ہوئی ۔اس موقعہ پر قاری و صوفی ولی با رکن آل کرناٹک جمعیت صوفیا و مشائق نے اپنے دلچسپ انداز بیان سے ٹیپو شہید سے اپنی عقیدت کے عملی کارنامے بیان فرمائے اور خوب واہ واہ اور تالیاں بٹورے ۔آپ ولی با جو شہر کے اک جواں سال پرجوش عاشق ٹیپو کہلاتے ہیں اور ہر سال باقاعدگی سے سلطان ٹیپو کے محل واقع خلاصی پالیہ سمر پیالس میں شہر کے تمام ہندو سوامیوں اور مٹھوں کے سربراہوں کو مدعو فرماتے ہوے یوم ٹیپو تقریبات کا اہتمام فرماتے آئے ہیں ۔ آپ ولی با نے اس بات پر اپنی حیرت و افسوس ظاہر فرمائی کہ کیمپے گوذا جو اپنے وقت کا اک ظالم پالیگار تھااور غریب تاجروں و بیو پاریوں سے زبردستی ہفتہ وصولی کرتا تھا اور یہ بات جب حیدر علی کو معلوم ہوئی تو آپ نے اس شخص کو گرفتار کرنے بنگلور آئے تو یہ شخص کیمپے گوذا حیدر علی کا نام سنتے ہی وہاں سے خوف کے مارے جو فرار ہوگیا تو اس کا آج تک پتہ نہیں چلاکہ وہ کہاں چلاگیا آج اس بھگوڑے کے نام پر بنگلور کا ایر پورٹ منسوب ہے جبکہ شیر میسور سلطان شہید کی جائے ولادت دیون ہلی میں ہونے باوجود ہماری سرکاروں نے اس مرد حریت کو وہ مقام و مرتبہ نہیں دیا جس کا وہ مستحق بھی ہے ! اس کے بعد اک اور شاعر جناب عبدلوہاب دانش نے بھی سلطان شہید سے اپنی عقیدت اپنے منظوم کلام کے ذریعہ فرمائی جس کے دو شعر یوں ہیں انصاف کا سچائی کا میزان تھے ٹیپو ۔یہ سچ ہے کہ سلطانوں کے سلطان تھے ٹیپو ۔ عزت سے محبت سے نوازے گئے سارے ۔ ہر مذہب وملت کے قدردان تھے ٹیپو ۔ اس اجلاس کے لائحہ عمل کے مطابق صدارتی خطاب اجلاس کے مہتمم و منتظم اور میزبان جناب ڈاکٹر سی وائی یس خان مصنف تاریخ سلطنت میسور ۔ و۔ مرد حریت سلطان ٹیپو تھے لیکن آپ ڈاکٹر صاحب نے اس موقعہ پر بجائے تقریر کے سوال و جواب کے ذریعہ سامعین کے مختلف سوالوں کے تفصیلی جوبات کے ذریعہ بہت معلوماتی باتوں سے سامعین اجلاس کو مستفیظ فرمایا اور POWER PRESENTATION کے ذریعہِ SCREEN پر تاریخ ٹیپو شہید پر کچھ اہم جھلکیاں پیش فرمائی ولی با کی دعا پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا( احمد عباس جاوید)