تمام اراکین اسمبلی گجرات لوٹے وہاں بھی کڑی حفاظت میں ریسارٹ میں بند رہیں گے

03:36PM Mon 7 Aug, 2017

بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔گذشتہ نودنوں سے بنگلور میں قیام کرنے کے بعد گجرات کے تمام کانگریس کے اراکین اسمبلی لوٹ گئے اوروہیں بھی انہیں ایک ریسارٹ میں کڑی حفاظت کے سات رکھا گیا ہے ان اراکین اسمبلی کو کل صبح راجیہ سبھا کی تین سیٹوں کیلئے ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کے لئے ریسارٹ سے راست گجرات لجس لیٹیو کو لئے جایا جائے گا۔ اس کے بعد تمام اراکین اسمبلی آزاد ہوں گے اور اپنے خاندان کے تمام اراکین اور رشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں گے ۔تمام اراکین اسمبلی کو احمد آبادلے جانے کی ذمہ داری رکن پارلیمان ڈی کے سریش کو سونپی گئی۔ وہ کل دیر رات دوسرکاری بسوں کے ذریعہ رام نگر ضلع بڑدی کے قریب واقع ایگل ٹان ریسارٹ سے راست کیمپے گوڈا انٹر نیشنل ایر پورٹ کولے گئے اور تمام اراکین اسمبلی کے ساتھ ہوائی جہاز میں سوارہوکر صبح کی اولین ساعتوں میں تین بجے کے قریب احمد آباد انٹر نیشنل ایر پورٹ پہنچ گئے اور وہاں سے ایک ریسارٹ کو بھیجا گیا۔ اس موقعہ پر گجرات پردیش کانگریس کے ترجمان شکتی کانت گوئل نے بنگلور ایرپورٹ پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ بی جے پی کے تیسرے اُمیدوار کو بھی کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی جارہی تھی اور انہوں نے اس کی روک تھام کے لئے تمام اراکین اسمبلی کو بنگلور منتقل کردیا گیا۔ چھ اراکین اسمبلی میں سے تین اراکین اسمبلی کانگریس میں لوٹ آئے ہیں جس سے کانگریس کے حوصلہ بلند ہوئے ہیں۔دوسری طرف جے ڈ ی یوکے دو اور این سی پی کاایک رکن اسمبلی بھی کانگریس کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔جس سے پارٹی کے اُمیدوار احمد پٹیل کی کامیابی یقینی ہے اور انہیں کامیاب بنانے سے کوئی روک نہیں سکتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی نے پچھلے دروازے سے کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہر ایک رکن اسمبلی کو15کروڑ روپےئے کی قیمت دینے کی سازش کی گئی تھی اس میں سے تین اراکین اسمبلی فروخت ہوگئے اور تین اراکین اسمبلی فروخت ہونے کے بجائے کانگریس پارٹی میں ہی رہنے کا فیصلہ لیکر لوٹ آئے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ریاست کرناٹک کے وزیر برائے توانائی ڈی کے شیوا کمار کی رہائش گاہ اور دیگر ٹھکانوں پر محکمۂ انکم ٹیکس افسران کے چھاپے سیاست کی وجہ سے ہوئے تھے اور اس کے پیچھے وزیر اعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی کا ہاتھ ہے اور دونوں اس الزام سے صاف طورپر انکار کررہے ہیں۔دونوں کا اندازہ غلط نکلا ہے اور دونوں نے ہی غلط اندازہ لگایا تھا کہ شیوا کمار کی رہائش گاہ اور دیگر ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کے ذریعہ گجرات کے اراکین اسمبلی کو ذہنی طور پر پریشان کیا جاسکتا ہے ۔لیکن اس طرح کچھ نہیں ہوا۔البتہ چھاپوں سے اراکین اسمبلی سکتے میں آگئے تھے ان چھاپوں سے شیواکمار ہو یا ان کے بھائی سریش کو کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی جس طرح سے دونوں بھائیوں نے تمام اراکین اسمبلی کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی ہمت بندھائی ہم ان کے مشکور ہیں۔ کل اتوار کو بنگلور کے ودھان سودھا، وکاس سودھا، ہائی کورٹ سمیت کئی تاریخی مقامات کا نظارہ کرنے کا موقعہ ملا اور بنگلور واقعی بہت خوبصورت اور یہاں کا موسم بھی سدابہار ہے اور خصوصی طورپر یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں اور دیگر ریاستوں کے لوگوں کو بھی یہاں رہنے کا موقعہ دیتے ہیں۔ اور نو دن کیسے بیت گئے اس کا پتہ ہی ہیں چلا۔