کملیش تیواری قتل کیس : راہگیروں سے فون مانگ کر استعمال کررہے ہیں قتل کے ملزمین

11:57AM Mon 21 Oct, 2019

ہندو سماج پارٹی کے قومی صدر کملیش تیواری قتل کیس میں شامل مشتبہ ملزمین اب راہ گیروں سے فون مانگ کر استعمال کررہے ہیں ۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں ملزمین پکڑے جانے کے ڈر سے مسلسل اپنی جگہ تبدیل کررہے ہیں ۔ اتوار رات کو پولیس کو دونوں کی جگہ ہریانہ کے امبالہ میں ہونے کی جانکاری ملی تھی ۔ حالانکہ رات 12 بجے پولیس کو پتہ لگا کہ یہ اترپردیش کے شاہجہاں پور میں ہوسکتے ہیں ۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں ملزمین اپنا فون استعمال کرنے کی بجائے کسی راہ گیر سے بہانہ بناکر فون مانگ کر استعمال کرتے ہیں اور آگے نکل جاتے ہیں ۔ فی الحال پولیس کی کئی ٹیمیں دونوں ملزمین کی تلاش کررہی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ملزمین نیپال نہیں جانا چاہتے ہیں ، بلکہ ان کا مقصد کچھ اور ہی ہے ۔ وہیں گجرات کے سورت سے لکھنو لائے گئے تین مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کر کے دونوں ملزمین کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
اس معاملہ میں اب تک پولیس نے 74 سی سی ٹی وی فوٹیج کو کھنگالا ہے ، جس کی بنیاد پر یو پی پولیس قتل کے ملزمین کے نزدیک پہنچنے کی کوشش میں ہے ۔ حالانکہ ابھی تک پولیس کو کوئی کامیابی نہیں ملی ہے ۔ دونوں مسلسل اپنا حلیہ بدل کر چھپ رہے ہیں ۔ وہ اپنا موبائل بھی سات آٹھ گھنٹے بعد آن کر رہے ہیں اور اس کے بعد پھر سوئچ آف کردے رہے ہیں ۔ بتادیں کہ گزشتہ 18 اکتوبر کو کملیش تیواری کا لکھنو میں اس کے گھر میں قتل کردیا گیا تھا ۔ اس قتل میں گجرات سے تین اور اترپردیش سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اترپردیش کے دو مولاناوں کی بھی جانچ کی جارہی ہے ۔ سال 2015 میں ان دونوں نے کملیش تیواری کا سر قلم کرنے والوں کو ڈیڑھ کروڑ روپے انعام کے طور پر دینے کا اعلان کیا تھا ۔